Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1187

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلّٰى الْجُمُعَةَ بِمَكَّةَ تَقَدَّمَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلّٰى الْجُمُعَةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى بَيْتِهٖ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَهٗ . فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهٗ)رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيْ قَالَ: (رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ صَلّٰى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ صَلّٰى بَعْدَذٰلِكَ أَرْبعًا)

وعن عطاء قال: كان ابن عمر إذا صلى الجمعة بمكة تقدم فصلى ركعتين ثم يتقدم فيصلي أربعا وإذا كان بالمدينة صلى الجمعة ثم رجع إلى بيته فصلى ركعتين ولم يصل في المسجد فقيل له . فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله)رواه أبو داود وفي رواية الترمذي قال: (رأيت ابن عمر صلى بعد الجمعة ركعتين ثم صلى بعدذلك أربعا)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب مکہ میں جمعہ پڑھتے تو آگے بڑھتے پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر آگے بڑھتے تو چار پڑھتے ۱؎اور جب مدینہ میں ہوتے اور جمعہ پڑھتے تو اپنے گھر لوٹ جاتے دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نہ پڑھتے ان سے پوچھا گیا توکہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے ۲؎(ابوداؤد)اور ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا کہ آپ نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد چار پڑھیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت ابن عمر چونکہ مکہ معظمہ میں مسافر ہوتے تھے اس لیئے جمعہ کی سنتیں مسجد ہی میں ادا کرتے مگر فرق کے لیئے جگہ بدل دیتے تاکہ فرائض و نفل میں جدائی بھی ہوجائے اور مسجد کے چند مقامات گواہ بھی بن جائیں۔یہ حدیث امام ابو یوسف کی دلیل ہے کہ بعد جمعہ چھ سنت مؤکدہ ہیں مگر وہ فرماتے ہیں کہ پہلے چار پڑھے پھر دو اور یہاں ہے کہ آپ نے پہلے دو پڑھیں پھر چار۔
۲
؎یعنی سنت جمعہ مکہ معظمہ میں مسجد ہی میں پڑھتے تھے اور مدینہ منورہ میں گھر میں اور بعد جمعہ چھ رکعتیں پڑھتے تھے۔خیال رہے کہ بعد جمعہ چار سنتیں بالا تفاق مؤکدہ ہیں اور دو کے مؤکدہ ہونے میں اختلاف ہے۔تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ بعد جمعہ چار سنتیں پہلے پڑھے دو بعد میں تاکہ فرض اورسنت مؤکدہ میں فاصلہ ہوجائے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کے اعمال مختلف رہے ہیں کبھی کسی طرح ادا فرمائیں،کبھی کسی طرح لہذا جائز ہر طرح ہیں صرف بہتر ہونے میں اختلاف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1187