Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1184

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَكْحُولٍ يَبْلُغُ بِهٖ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«مَنْ صَلّٰى بَعْدَ الْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ رُفِعَتْ صَلَاتُهٗ فِي عِلِّيِّينَ» . مُرْسَلًا

وعن مكحول يبلغ به أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«من صلى بعد المغرب قبل أن يتكلم ركعتين وفي رواية أربع ركعات رفعت صلاته في عليين» . مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مکحول سے ۱؎انہیں خبر پہنچی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی مغرب کے بعد بات کرنے سے پہلے دو رکعتیں اور ایک روایت میں ہے چار رکعتیں پڑھ لے ۲؎تو اس کی نماز علیین میں اٹھائی جاتی ہے۳؎(مرسلًا)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام مکحول ابن عبد الله ہے،کنیت ابو عبد الله ،شامی ہیں،حضرت لیث کے غلام،امام اوزاعی کے استاذ،تابعی ہیں،بہت صحابہ سے ملاقات کی۱۱۸ھ ∞ میں وفات ہوئی۔(کمال)آپ کی احادیث مرسل زیادہ ہیں۔
۲
؎اگر ان دو چار رکعتوں سے مغرب کے بعد کی سنتیں ونفل مراد ہیں تو مغرب سے مراد فرض مغرب ہوں گے اوراگر ان سے نماز اوّابین مرادہے تو مغرب سے پوری نمازمغرب مراد ہوگی۔
۳
؎یہاں کلام سے مراد دنیاوی بات چیت ہے نہ کہ دعا و ذکر وغیرہ۔علیینساتویں آسمان سے اوپر ایک مقام ہے یا خود ساتویں آسمان کا نام ہے یا فرشتوں کے رجسٹرو دفتر کا نام ہے جس میں مقبولوں کے مقبول اعمال لکھے جاتے ہیں یا اس سے مراد رب تعالٰی کی بارگاہ کا قرب ہے۔مطلب یہ ہے کہ مغرب کے بعد بغیر دنیاوی بات چیت کیئے یہ نوافل پڑھ لینا بہت افضل ہیں ان کی برکت سے یہ پوری نماز علیین تک پہنچائی جاتی ہے۔بعض لوگ اس حدیث کی وجہ سے نماز مغرب کے بعد دعا نہیں مانگتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ دعا بھی کلام ہے مگر یہ غلط ہے ایسی جگہ کلام سے مراد دنیا وی بات چیت ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1184