Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1173

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهٗ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ الا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنَ أَبِي خَثْعَمٍ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: هُوَ مُنْكَرُ الحَدِيثِ وَضَعَّفَهٗ جِدًّا

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من صلى بعد المغرب ست ركعات لم يتكلم فيما بينهن بسوء عدلن له بعبادة ثنتي عشرة سنة» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عمر بن أبي خثعم وسمعت محمد بن إسماعيل يقول: هو منكر الحديث وضعفه جدا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے جن کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو یہ بارہ برس کی عبادت کے برابر ہوں گی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم سوائے عمر ابن خثعم کی حدیث کے اور سے نہیں پہچانتے اور میں نے محمد ابن اسمعیل کو فرماتے سنا کہ وہ منکر حدیث ہے اور اسے بہت ضعیف کہا ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس نماز کا نام صلوۃ اوابین ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ چھ رکعتیں مغرب کی سنتوں و نفلوں کے ساتھ ہیں،بعض کہتے ہیں کہ ان کے علاوہ۔مرقاۃ نے پہلی صورت کو ترجیح دی اور فرمایامؤکدہ دو سنتیں الگ سلام سے پڑھے،باقی چار میں اختلاف ہے دو سلاموں سے پڑھے یا ایک سے۔خیال رہے کہ ان جیسی احادیث سے فضائل میں ثواب عبادت مراد ہوتا ہے نہ کہ اصل عبادت،لہذا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک بار نماز اوّابین پڑھ کر ۱۲ سال تک نماز سے بے پرواہ ہوجاؤ۔
۲
؎اس کے ضعیف ہونے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے،نیز اسے طبرانی وغیرہ نے مختلف اسنادوں سے نقل کیا جس سے اس میں قوت آگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1173