Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1169

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ: «إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عبد الله بن السائب قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي أربعا بعد أن تزول الشمس قبل الظهر وقال: «إنها ساعة تفتح فيها أبواب السماء فأحب أن يصعد لي فيها عمل صالح» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن سائب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور فرماتے تھے کہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ اس گھڑی میں میرا نیک عمل چڑھے۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ حضرت عبد الله ابن سائب صحابی بھی ہیں،تابعی بھی ہیں،جو صحابی ہیں انہوں نے ابی ابن کعب سے قرآن سیکھا ہے اور ان سے حضرت مجاہد نے،مخزومی ہیں،قریشی ہیں،مکہ مکرمہ میں رہے وہیں حضرت ابن زبیر کی شہادت سے کچھ پہلے وفات پائی غالبًا یہاں صحابی مراد ہیں۔
۲
؎حق یہ ہے کہ یہ چار سنتیں ظہر کی ہیں چونکہ فرض ظہر کچھ دیر ٹھنڈک کرکے پڑھے جاتے ہیں اور آسمان کے دروازے سورج ڈھلتے ہی کھل جاتے ہیں اس لیئے سرکار نے یہ سنتیں جلدی پڑھیں لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اس وقت ظہر کے فرض ہی کیوں نہ پڑھ لیئے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1169