Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1182

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتٰی مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلّٰى فِيهِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا فَقَالَ: «هٰذِهٖ صَلَاةُ الْبُيُوتِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيِّ قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «عَلَيْكُمْ بِهٰذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ »

وعن كعب بن عجرة قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم أتی مسجد بني عبد الأشهل فصلى فيه المغرب فلما قضوا صلاتهم رآهم يسبحون بعدها فقال: «هذه صلاة البيوت» . رواه أبو داود وفي رواية الترمذي والنسائي قام ناس يتنفلون فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «عليكم بهذه الصلاة في البيوت »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بنی عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف لے گئے ۱؎تو وہاں مغرب پڑھی جب لوگ اپنی نماز پڑھ چکے تو حضور نے انہیں اس کے بعد نفل پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ یہ گھروں کی نماز ہے ۲؎(ابوداؤد) ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے کہ کچھ لوگ نفل پڑھنے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نماز گھروں میں پڑھنی چاہیئے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے ان کی مسجد اب تک مدینہ طیبہ میں مشہور ہے۔
۲
؎اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے فرمایا کہ سارے نوافل اور سنتیں گھر میں پڑھنا افضل،سنت مغرب کہ اس کا گھر میں پڑھنا بہت ہی افضل ۔خیال رہے کہ یہ اس کے لیئے ہے جو گھر آکر پڑھ سکے لہذا مسافر اور معتکف اس حکم سے خارج ہیں اسی طرح جسے یہ اندیشہ ہو کہ گھر میں بچوں کی چیخ و پکار کی وجہ سے نمازمیں حضور نہ ہوگا وہ مسجد ہی میں پڑھے۔(اشعۃ اللمعات)
۳
؎یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے،بعض شارحین نےعلیکمکو وجوب کے لیئے لیا اور فرمایا کہ سنت مغرب گھر میں پڑھنا واجب مسجد میں پڑھنا منع ہے مگر یہ درست نہیں جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1182