Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1176

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :« اِدْبَارَ النُّجُوۡمِ الرَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفجْرِ و اَدْبَارَ السُّجُوۡدِ ِالرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :« ادبار النجوم الركعتان قبل الفجر و ادبار السجود الركعتان بعد المغرب». رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تاروں کے بعد دو رکعتیں ہیں فجر سے پہلے اور سجدوں کے بعد دو رکعتیں مغرب کے بعد ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس میں سورۂ طور اور سورۂقٓکی دو آیتوں کی طرف اشارہ ہے"وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحْہُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوۡمِ" اور دوسری آیت "فَسَبِّحْہُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوۡدِ"حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے ان کی شرح یہ فرمائی کہ پہلی آیت میں فجر کی دو سنتیں مراد ہیں کیونکہ وہ تارے ڈوبنے کے بعد ہی پڑھی جاتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ فجر اجالے میں پڑھنی چاہیے نہ کہ اندھیرے میں کیونکہ اس وقت تارے ظاہر ہوتے ہیں چھپے نہیں ہوتے ۔"وَ اَدْبَارَ السُّجُوۡدِ" سے مراد مغرب کے فرض ہیں ان آیتوں کی اور بہت تفسیریں کی گئی ہیں مگر یہ تفسیر قوی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1176