Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1175

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلّٰى أَرْبَعَ رَكْعَاتٍ أَو سِتَّ رَكْعَاتٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعنها قالت: ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء قط فدخل علي إلا صلى أربع ركعات أو ست ركعات. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کبھی عشاء نہ پڑھی،جس کے بعد میرے پاس تشریف لائے مگر چار یا چھ رکعتیں پڑھ لیں ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎دو مؤکدہ اور ان کے بعد دو یا چار غیرمؤکدہ،چونکہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم وتر اور بعد کی دو نفلیں تہجد کے ساتھ پڑھتے تھے اس لیئے یہاں ان کا ذکر نہ ہوا۔لمعات وغیرہ میں ہے کہ یہاں عشاء سے مراد پہلی عشاء یعنی مغرب ہے اور نفلوں سے مراد نماز اوابین ہے۔اس صورت میں نماز اوابین کی یہ ایک اور حدیث ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1175