Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1181

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَتَيْتُ عُقْبَةَ الْجُهَنِيَّ فَقُلْتُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ؟ فَقَالَ عُقْبَةُ: إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهٗ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ: فَمَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشُّغُلُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن مرثد بن عبد الله قال: أتيت عقبة الجهني فقلت: ألا أعجبك من أبي تميم يركع ركعتين قبل صلاة المغرب؟ فقال عقبة: إنا كنا نفعله علی عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت: فما يمنعك الآن؟ قال: الشغل. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مرثد ابن عبد الله سے فرماتے ہیں کہ میں عقبہ جہنی کے پاس حاضر ہوا ۱؎میں نے عرض کیا کہ کیا میں ابوتمیم کی عجیب بات آپ کو نہ سناؤں وہ تو مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۲؎تو عقبہ بولے کہ یہ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں ہم بھی کرتے تھے میں نے عرض کیا کہ اب آپ کو کون شئے مانع ہے فرمایا مشغولیت ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،مصر کے مفتی ہیں اور عبدالعزیز ابن مروان یعنی عبدالملک ابن مروا ن کا بھائی آپ کے فتویٰ پر بہت اعتماد کرتا تھا۔
۲
؎اس تعجب سے معلوم ہورہا ہے کہ سارے صحابہ نے یہ نفل چھوڑ دیئے تھے کوئی نہ پڑھتا تھا جو کوئی پڑھتا تھا تو اس پر چہ میگوئیاں ہوتی تھیں۔جیسے وتر کی ایک رکعت جب امیر معاویہ نے پڑھی تو بعض نے حضرت ابن عباس سے بطور تعجب یہ کہا۔
۳
؎دنیوی کاروبار میں صراحتہً معلوم ہوا کہ کوئی صحابی انہیں سنت نہ سمجھتا تھا مباح یا حد درجہ مستحب جانتے تھے وہ بھی بے خبری سے،ورنہ صحابہ دنیاوی مشغولیت کی وجہ سے سنت نہیں چھوڑ سکتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1181