Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1180

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ فَرَكَعُوا رَكْعَتَيْنِ حَتّٰى إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهمَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أنس قال: كنا بالمدينة فإذا أذن المؤذن لصلاة المغرب ابتدروا السواري فركعوا ركعتين حتى إن الرجل الغريب ليدخل المسجد فيحسب أن الصلاة قد صليت من كثرة من يصليهما. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے تو جب مؤذن نماز مغرب کی اذان دیتا تو لوگ ستونوں کی طرف بھاگتے پھر دو رکعتیں پڑھتے حتی کہ اجنبی آدمی مسجد میں آتا تو سمجھتا کہ نماز پڑھ لی گئی ان پڑھنے والوں کے ہجوم کی وجہ سے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح و تحقیق پہلے ہوچکی کہ صحابہ کا یہ عمل شروع اسلام میں تھا پھر جب مغر ب میں جلدی کا حکم دیا گیا تو یہ نفل چھوٹ گئے مگر بعض کو ان کے نسخ کی خبر نہ ہوئی اور اس زمانہ میں بھی یہ عمل دائمی نہ تھا بلکہ شاذو نادر۔مرقاۃ نے فرمایا کہ سارے خلفائے راشدین اس کے نسخ پر متفق ہیں۔خیال رہے کہ امام مالک وغیرہم فقہا کے نزدیک وقت مغرب بقدر ادائے نماز ہے، ان کے ہاں تو یہ نفل مطلقًا ناجائز ہوں گے کہ ان سے وقت مغرب نکل جائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1180