Main Icon

باب : سنتیں اور ان کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1165

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صَلُّوْا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ» . قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «لِمَنْ شَاءَ» . كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مغفل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «صلوا قبل صلاة المغرب ركعتين صلوا قبل صلاة المغرب ركعتين» . قال في الثالثة: «لمن شاء» . كراهية أن يتخذها الناس سنة(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مغفل سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو،مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو تیسری بار فرمایا جو چاہے اس خوف سے کہ لوگ اسے سنت بنالیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ میں قیام رہا پھر عہد فاروقی میں لوگوں کو فقہ سکھانے بصرہ بھیجے گئے، وہاں ہی رہے،۶۰ھ∞ میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی "لِمَنْ شَاءَ"اس لیئے فرمایا کہ لوگ ان رکعتوں کو سنت مؤکدہ یا واجب نہ جان لیں یہ سمجھ کر "صَلُّوْا"امر ہے اور امرو جوب کے لیئے آتا ہے۔خیال رہے کہ بعض امام اس حدیث کی بناء پر فرماتے ہیں کہ نماز مغرب سے پہلے دو نفل مستحب ہے لیکن امام اعظم ، امام مالک اور اکثر فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ نفل مکروہ ہیں۔اس حدیث کو منسوخ مانتے ہیں کہ شروع اسلام میں یہ حکم تھا پھر نہ رہا چند وجہوں سے:ایک یہ کہ تیسری فصل میں بحوالہ مسلم آرہا ہے کہ عمر فاروق اس نفل پڑھنے والوں کو سزا دیتے تھے۔دوسرے یہ کہ بروایت بخاری اسی دوسری فصل میں آرہا ہے صحابہ نے ابو تمیم کو دو رکعتیں پڑھتے دیکھا توتعجبًاایک دوسرے سے شکایت کی۔تیسرے یہ کہ تمام صحابہ نے یہ نفل بعد میں چھوڑ دیئے۔چوتھے یہ کہ ان نفلوں سے مغرب میں تاخیر ہوگی حالانکہ اسے جلدی پڑھنے کا حکم ہے۔پانچویں یہ کہ ہمباب فضل اذانمیں ایک حدیث نقل کرچکے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہر دو اذانوں یعنی اذان و تکبیر کے درمیان نماز ہے سوا مغرب کے۔بہرحال جمہور علماء کے نزدیک یہ حدیث قابلِ عمل نہیں۔اس کی کچھ بحثباب فضل اذا نمیں گزر چکی اور اس کی پوری تحقیق فتح القدیر شرح ہدایہ میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1165