- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- مقررہ سزاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 3555
باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3555
مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزيدِ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللّٰهِ وَقَالَ الآخَرُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ! فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللّٰهِ، وَأْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ قَالَ: "تَكَلَّمْ" قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِئَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللّٰهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيتُكَ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِئَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"،فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عن أبي هريرة وزيد بن خالد: أن رجلين اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أحدهما: اقض بيننا بكتاب الله وقال الآخر: أجل يا رسول الله! فاقض بيننا بكتاب الله، وأذن لي أن أتكلم قال: "تكلم" قال: إن ابني كان عسيفا على هذا، فزنى بامرأته فأخبروني أن على ابني الرجم، فافتديت منه بمئة شاة وبجارية لي، ثم إني سألت أهل العلم فأخبروني أن على ابني جلد مئة وتغريب عام، وإنما الرجم على امرأته، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أما والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب الله، أما غنمك وجاريتك فرد عليك، وأما ابنك فعليه جلد مئة وتغريب عام، وأما أنت يا أنيس فاغد إلى امرأة هذا، فإن اعترفت فارجمها"،فاعترفت فرجمها. متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور زید ابن خالد سے ۱؎کہ دو شخصوں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقدمہ پیش کیا تو ان میں سے ایک بولا کہ ہمارے درمیان اﷲکی کتاب سے فیصلہ فرمادیجئے ۲؎اور دوسرا بولا ہاں یا رسول اﷲپس ہمارے درمیان اﷲکی کتاب سے فیصلہ فرمایئے اور مجھے عرض کرنے کی اجازت دیجئے۳؎فرمایا بولو عرض کیا میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا ۴؎تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کرلیا مجھے لوگوں نے خبر دی کہ میرے بیٹے پر رجم(سنگساری)ہے ۵؎تو میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور ایک اپنی لونڈی کا فدیہ دے دیا ۶؎پھر میں نے علماء سے پوچھا ۷؎انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کا دیس نکالا ہے اور سنگساری اس کی بیوی پر ہے ۸؎تب رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ رہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان اﷲکی کتاب سے فیصلہ کروں گا ۹؎رہیں تیری بکریاں اور لونڈی وہ تجھ پر واپس ہوں گی ۱۰؎لیکن تیرا بیٹا تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال دیس نکالا ہے ۱۱؎اور اے انیس ۱۲؎کل صبح تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ اقرار کرے تو اسے سنگسار کردو تو اس نے اقرار کرلیا چنانچہ اسے رجم کیا ۱۳؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ جہنی ہیں،مشہور صحابی ہیں،پچاسی سال عمر پائی،عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں ۷۸ھ ∞ میں وفات پائی،کوفہ میں فوت ہوئے وہاں ہی قبر شریف ہے۔(اشعہ)
۲؎شاید یہ دونوں حضرات کہیں باہر کے تھے جو آداب دربار عالیہ سے واقف نہ تھے اس لیے یہ عرض کیا ورنہ حضور کا فیصلہ کتاب اﷲپر موقوف نہیں جو زبان شریف سے نکلے وہ ہی فیصلہ شرعیہ ہے۔
۳؎شاید یہ شخص دوسرے سے زیادہ قادر الکلام تھا یا اس کے بیٹے نے زنا کا اقرار کرلیا تھا اور دوسرے کی بیوی نے اقرار نہ کیا تھا اس لیے اس نے خیال کیا کہ بیانِ جرم کے لیے میں ہی موزوں ہوں۔
۴؎علیٰ ھٰذاکا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرچکا تھا اور اس کی مزدوری اس کے ذمہ لازم ہوچکی تھی،اگرلہٰذاہوتا تو یہ مدعیٰ حاصل نہ ہوتا۔(مرقات)
۵؎یعنی بعض صحابہ نے میرے کنوارے بیٹے پر زنا کی وجہ سے رجم کا حکم دیا۔اس سے معلوم ہوا کہ افضل کے ہوتے مفضول سے مسئلہ پوچھنا جائز ہے،دیکھو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس نے صحابہ سے مسئلہ پوچھا،یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مسئلہ میں غلطی ہوجائے تو افضل اس کی اصلاح کردے،دیکھو یہ مسئلہ غلط بتایا گیا تھا جس کی اصلاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی۔
۶؎یہ ان صحابی کا اپنا اجتہاد تھا یہ سمجھے کہ جیسے قتل میں قاتل سو اونٹ فدیہ دے کر قصاص سے بچ سکتا ہے میرا بیٹا بھی اس فدیہ کی بنا پر رجم سے بچ سکے گا۔
۷؎یعنی بڑے علماء صحابہ سے پوچھا۔
۸؎کیونکہ ان کا بیٹا کنوارا تھا اور دوسرے کی بیوی شادی شدہ،محصنہ کنوارے زانی کی سزا کوڑے ہیں اور شادی شدہ محصنہ کی سزا رجم ہے۔
۹؎اس سے معلوم ہوا کہ پہلے قرآن مجید میں رجم کی آیت تھی"الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجمو ھما نکالًامن اﷲ واﷲ عزیز حکیم"،پھر بعد میں اس کی تلاوت منسوخ ہوئی حکم باقی رہا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ ہم قرآن سے فیصلہ فرمائیں گے پھر رجم کا حکم دیا،بعض نے فرمایا کہ حکم رجم اس آیت سے حضور نے نکالا"وَالَّذَانِ یَاۡتِیٰنِہَا مِنۡکُمْ فَاٰذُوۡھُمَا" جو زنا کرلیں انہیں ایذاء دو،ایذاء میں رجم بھی داخل ہے۔(مرقات)مگر فقیر کے نزدیک یہ دونوں قول ضعیف ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زانی لڑکے پر سو کوڑوں کے ساتھ ایک سال کے دیس نکالے کی بھی سزا دے رہے ہیں یہ قرآن کریم میں نہ تھا نہ اب ہے۔حق یہ ہے کہ حضور کا ہر حکم در حقیقت حکم قرآنی ہے کہ رب نے فرمایا:"مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر حکم قرآنی حکم ہے حضور ناطق قرآن ہیں۔
۱۰؎غالبًا اس شخص نے یہ بکریاں اور لونڈی خیرات نہ کی تھیں ورنہ صدقہ و خیرات دے کر واپس نہیں ہوسکتی بلکہ عورت کے خاوند اور اس کے عزیزوں کو دی ہوں گی کیونکہ ان کی آبروریزی ہوئی جیسے قاتل مقتول کے ورثاء کو دیت دیتا ہے۔
۱۱؎سو کوڑے تو حد کے طور پر اور ایک سال کا دیس نکالا بطور تعزیر کہ اگر امام اس میں مصلحت دیکھے تو یہ سزا بھی دے یہ ہی ہمارا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں یہ بھی حد ہے مگر امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ حضرت عمر نے ایک بار زانی کو دیس نکالا دیا وہ کفار سے جا ملا تو آپ نے پھر یہ سزا نہ دی،اگر یہ بھی حد ہوتی تو آپ اسے بند نہ کرتے دیکھو طحاوی شریف،نیز کبھی دیس نکالا مضر بھی ہوتا ہے کہ زانی باہر جاکر اور آزاد ہوجاتا ہے اس لیے اگر مفید ہو تو یہ سزا دی جائے۔
۱۲؎ان کا نام انس ابن ضحاک اسلمی ہے،محبت وپیار میںانیستصغیر سے فرمایا۔
۱۳؎اقرار سے مراد شرعی اقرار ہے یعنی چار بار۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اقرار نامہ زنا سلطان اسلام کے سامنے ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے نائب کے سامنے بھی ہوسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ زانی کے رجم کے وقت سلطان کی موجودگی ضروری نہیں، نائب سلطان کی حاضری گویا سلطان ہی کی حاضری ہے۔تیسرے یہ کہ فریقین میں سے ایک کے بیان پر بھی قاضی کفایت کرسکتا ہے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس ایک شخص کا بیان سنا عورت کے خاوند کا بیان نہ لیا،ہاں دوسرے ملزم کو سزا اس کے اقرار پر دی،حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس جب فرشتے مدعی و مدعیٰ علیہ کی شکل میں حاضر ہوئے تو آپ نے ایک کا بیان سن کر فرمادیا کہ یہ دوسرا ظالم ہے جو اپنے پاس ننانوے بکریاں ہوتے ہوئے تیری ایک بکری مانگتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ہندہ کا بیان سن کر حکم دیا کہ ابو سفیان کی جیب سے بقدر ضرورت خرچ لے لیا کرو۔بعض نے فرمایا کہ فتویٰ اور قضاء میں فرق ہے،فتویٰ ایک بیان پر ہوسکتا ہے،امام شافعی نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ چوری و قتل کی طرح زنا میں بھی ایک اقرار کافی ہے کیونکہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چار اقراروں کی شرط نہ لگائی مگر یہ دلیل بہت کمزور ہے کیونکہ حضرت ماعز کی روایت میں چار اقراروں کی تصریح ہے اور یہاں ایک اقرار کی تصریح نہیں لہذا یہاں بھی شرعی اقرار مراد ہے یعنی چار بار،مذہب حنفی بہت قوی ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3555