Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3573

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَجُلًا زَنَى بِامْرَأَةٍ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُلِدَ الْحَدَّ، ثُمَّ أُخْبِرَ أَنَّهُ مُحْصَنٌ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن جابر: أن رجلا زنى بامرأة فأمر به النبي صلى الله عليه وسلم فجلد الحد، ثم أخبر أنه محصن فأمر به فرجم. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک مرد نے ایک عورت سے زنا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اسے کوڑے مارے گئے ۱؎پھر خبر دی گئی کہ وہ محصن ہے تو حکم دیا رجم کیا گیا۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غیر محصن ہونے کی غلط خبر ملی یا اس زمانہ میں مقدمہ کی زیادہ تحقیقات نہ کی جاتی تھی اس لیے گمان پر کوڑے مارے گئے۔(مرقات)خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو رب تعالٰی نے علوم غیبیہ بخشے مگرا ن علوم کا ہر وقت حضور نہیں ہوتا کبھی وہ حضرات عالم کے ذرہ ذرہ سے خبردار ہوتے ہیں کبھی اپنے سے بھی بے خبر،شیخ سعدی نے کیا خوب فرمایا۔شعر
گہے برطارم اعلیٰ نشینم گہے برپشت پاء خود نہ بینم
نیز حاکم اپنے علم خصوصی پر کسی کو سزا نہیں دے سکتا،ثبوت شرعی پر سزا دی جاتی ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ اگر غلطی سے بجائے رجم کے کوڑے مار دیئے گئے تو یہ کوڑے رجم کے قائم مقام نہ ہوں گے رجم علیحدہ کیا جائے گا لیکن اگر بجائے کوڑوں کے رجم کردیا گیا تو یہ رجم کوڑوں کا نائب ہوجائے گا اور محصن ہونے کی خبر دینے والوں پر اس کی جان کا تاوان ہوگا جیساکہ کتب فقہ میں مذکور ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3573