Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3564

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَقِيمُوا عَلَى أَرِقَّائِكُمُ الْحَدَّ مَنْ أُحْصِنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصَنْ، فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا، فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَفدٍ بِنِفَاسٍ، فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: "أَحْسَنْتَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: وقَالَ: "دَعْهَا حَتَّى يَنْقَطِعَ دَمُهَا، ثُمَّ أَقِمْ عَلَيْهَا الْحَدَّ، وَأَقِيمُوا الْحُدُودَ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".

وعن علي قال: يا أيها الناس! أقيموا على أرقائكم الحد من أحصن منهم ومن لم يحصن، فإن أمة لرسول الله صلى الله عليه وسلم زنت فأمرني أن أجلدها، فإذا هي حديث عفد بنفاس، فخشيت إن أنا جلدتها أن أقتلها، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم ، فقال: "أحسنت". رواه مسلم وفي رواية أبي داود: وقال: "دعها حتى ينقطع دمها، ثم أقم عليها الحد، وأقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ فرمایا اے لوگو اپنے غلاموں پر حد قائم کرو ۱؎ان میں سے جو شادی شدہ ہوں اور جو شادی شدہ نہ ہوں۲؎کیونکہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کرلیا تھا ۳؎تو حضور نے مجھے حکم دیا کہ اس کے کوڑے ماروں ۴؎تو ناگاہ وہ جن چکنے کے قریب ہی ہے تو میں نے خوف کیا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو اسے قتل ہی کردوں گا ۵؎تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا حضور نے فرمایا تم نے اچھا کیا۶؎(مسلم) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یوں ہے کہ اسے مہلت دو حتی کہ اس کا خون بند ہوجائے پھر اس پر حد قائم کرو ۷؎اور حدود ان پر قائم کرو جن کے تم مالک ہو ۸؎

شرح حدیث

3564۱∞؎ناسسے مراد مسلمان ہیں اور غلام سے مراد ہر غلام ہے مسلمان ہو یا کافر۔
۲
؎یہاںاحصانسے مراد شادی شدہ ہونا ہے اصطلاحی احصان مراد نہیں کہ اس میں اسلام اور حریت یعنی آزاد ہونا دونوں شرط ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیۡنَ بِفٰحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ"یہاں بھیاحصانبمعنی نکاح ہے۔
۳
؎اس لونڈی کا نام نہ معلوم ہوسکا اور نہ یہ معلوم ہوا کہ وہ لونڈی مؤمنہ تھی یا کافرہ۔
۴
؎پچاس کوڑے خواہ وہ شادی شدہ تھی یا کنواری کہ ہر زانیہ لونڈی کی یہ ہی سزا ہے۔
۵
؎یعنی وہ ابھی بچہ جن چکی ہے کمزور ہے پچاس کوڑوں کی تاب نہ لاسکے گی مرجائے گی۔
۶
؎اس سے معلوم ہوا کہ جس زانی کی سزا کوڑے ہوں اسے کوڑوں سے مرنے نہ دیا جائے لہذا بیمار کو یوں ہی سخت سردی سخت گرمی میں کوڑے نہ لگائے جائیں جب کہ مر جانے کا خطرہ ہو اور اگر یہ زانی مدقوق یا سل کی بیماری میں مبتلا ہو جس سے شفاء کی امید ہو تو سو شاخوں والی لکڑی اس کے جسم پر اس طرح مار دی جائے کہ جان نہ نکلے،اس پر ہمارا اور شوافع کا اتفاق ہے حاملہ کو بھی کوڑے نہ لگائے جائیں کہ مرنے کا اندیشہ ہے اور جس کی سزا رجم ہو اسے بہرحال رجم کردیا جائے کہ وہاں تو موت ہی دینی ہے۔
۷
؎جب کہ وہ طاقتور ہو کر کوڑے جھیل سکے۔
۸
؎بذریعہ حاکم اسلام حد قائم کراؤ کیونکہ حد قائم کرنا حاکم اسلام کا کام ہے صرف مولیٰ قائم نہیں کرسکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3564