Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3572

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ، فتجَلَّلَهَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، فَصَاحَتْ، وَانْطَلَقَ، وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، فَأَخَذُوا الرَّجُلَ، فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهَا: "اذْهَبِي، فَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ لَكِ".وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: "ارْجُمُوهُ" وَقَالَ: "لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعنه: أن امرأة خرجت على عهد النبي صلى الله عليه وسلم تريد الصلاة، فتلقاها رجل، فتجللها، فقضى حاجته منها، فصاحت، وانطلق، ومرت عصابة من المهاجرين، فقالت: إن ذلك الرجل فعل بي كذا وكذا، فأخذوا الرجل، فأتوا به رسول صلى الله عليه وسلم ، فقال لها: "اذهبي، فقد غفر الله لك".وقال للرجل الذي وقع عليها: "ارجموه" وقال: "لقد تاب توبة لو تابها أهل المدينة لقبل منهم". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز کے ارادہ سے نکلی ۱؎کہ ایک مرد اسے ملا جو اس پر چھا گیا۲؎اس سے اپنی ضرورت پوری کرلی۳؎وہ چیخی مرد چلا گیا مہاجرین کی ایک جماعت گزری وہ عورت بولی کہ اس شخص نے مجھ سے ایسا ایسا کیا ۴؎لوگوں نے اس شخص کو پکڑ لیا پھر اسے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو حضور نے اس عورت سے فرمایا تو جا تجھے انے بخش دیا۵؎اس شخص سے فرمایا جو اس پر چھا گیا تھا اسے رجم کردو ۶؎اور فرمایا یقینًا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگریہ توبہ سارے مدینہ والے کرتے تو ان سب کی قبول ہوجاتی ۷؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنے گھر سے مسجد نبوی شریف کی طرف جارہی تھی نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے،زمانہ رسالت میں عورتوں کو مسجدوں میں حاضری کا حکم تھا حضرت عمر رضی اعنہ نے اس کی ممانعت فرمائی حالات زمانہ کو ملاحظہ فرما کر،اب چونکہ عورتیں بازاروں، سیمناؤں،اسکولوں کالجوں اور بے دینوں کے جلسوں سے نہیں رکتیں لہذا انہیں مسجدوں کی جماعت سے بھی نہ روکو کہ یہاں آکر کچھ شرعی احکام تو سن جائیں گی۔
۲
؎تجللبنا ہےجلٌسے بمعنی جھول یعنی وہ مرد جھول کی طرح اس کو لپٹ گیا جیسا گھوڑے پر جھول پڑجاتی ہے کہ عورت اس سے چھوٹ نہ سکی۔
۳
؎یعنی اس سے زنا کرلیا۔خیال رہے کہ تمام صحابہ معصوم یا محفوظ نہیں بلکہ عادل یا مستور ہیں۔عادل وہ جو گناہ اگرچہ کرے مگر اس پر قائم نہ رہے،فاسق وہ جو علانیہ گناہ کبیرہ کرے یا گناہ صغیرہ کا عادی ہوجائے۔مستور وہ جس کا گناہ ظاہر نہ ہو،مستور فاسق نہیں ہوتا لہذا اس واقعہ پر یہ اعتراض نہیں کہ تم تمام صحابہ کو عادل کہتے ہو،حالانکہ ان میں سے بعض سے ایسے گناہ سرزد ہوئے،صحابہ کی عدالت پر قرآنی آیات شاہد ہیں،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔
۴
؎یعنی جبرًا زنا کیا،کذا و کذاکنایۃ یا تو اس بی بی کا قول ہے یا بی بی نے تو صراحۃً زنا کہا تھا راوی نے اسے اس طرح روایت کیا پہلےکذاسے چھا جانا مراد ہے دوسرےکذاسے زنا مراد۔
۵
؎یہاں بخشنے سے مراد پکڑ نہ فرمانا ہے یعنی اس زنا پر قیامت میں تیری پکڑ نہ ہوگی کیونکہ تو مجبورومعذور تھی راضی نہ تھی اور دنیا میں تجھ پر حد قائم نہ ہوگی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بخشش تو گناہ کی ہوتی ہے جب وہ عورت گنہگار ہی نہ ہوئی تو اس کی بخشش کے کیا معنے۔
۶
؎یہ شخص محصن تھا اور اس نے چار بار زنا کا اقرارکرلیا تھا تب اس کے رجم کا حکم دیا ورنہ اس زنا پر چار عینی گواہ نہ تھے صرف عورت کے کہنے سے مرد کو زنا کی سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔یہ اقرار زنا کرکے اپنے کو رجم کرا لینا اعلیٰ درجہ کی توبہ ہے۔
۷
؎اس فرمان عالی سے اس کی توبہ کی عظمت کا اظہار مقصود ہے ورنہ توبہ کی تقسیم نہیں ہوتی یعنی اگر یہ توبہ قابل تقسیم ہوتی اور اس کے حصے اہل مدینہ کی تعداد کے برابر کیے جاتے اور ہر ایک کو اس توبہ کا ایک حصہ نصیب ہوجاتا تو سب کی بخشش ہوجاتی۔اﷲ اکبر!∞

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3572