Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3566

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ: "أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ؟ " قَالَ: وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي؟ قَالَ: "بَلَغَنِي أَنَّكَ قَدْ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ" قَالَ: نَعَمْ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لماعز بن مالك: "أحق ما بلغني عنك؟ " قال: وما بلغك عني؟ قال: "بلغني أنك قد وقعت على جارية آل فلان" قال: نعم، فشهد أربع شهادات، فأمر به فرجم. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ما عز ابن مالک سے فرمایا کہ تمہارے متعلق مجھے جو خبر پہنچی ہے کیا وہ سچ ہے ۱؎عرض کیا میرے متعلق کیا خبر حضور کو پہنچی فرمایا یہ خبر پہنچی ہے کہ تم نے فلاں قبیلہ کی لونڈی سے زنا کیا ہے۲؎بولے ہاں پھر ماعز نے چار گواہیاں دیں تب حکم دیا گیا وہ رجم کیے گئے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ یہ حدیث گزشتہ اور آئندہ احادیث کے مخالف نہیں بلکہ ان میں اجمال ہے اور اس حدیث میں تفصیل۔واقعہ یہ ہوا کہ اولًا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز سے یہ پوچھا تاکہ ماعز انکار کرکے حد سے بچ جائیں،انہوں نے بجائے انکار کے اقرار کرلیا تب حضور انور نے ان سے منہ پھیرلیا،ان احادیث میں پورا واقعہ بیان نہیں ہوا یہاں پورا بیان ہوا لہذا تعارض نہیں اور حضور انور کا یہ سوال بھی دفع حد کے لیے تھا اور منہ پھیرتے رہنا بھی اسی لیے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲
؎مرقات نے فرمایا یہاں جاریہ بمعنی بیٹی ولڑکی ہے آل زائدہ ہے۔اشعہ نے فرمایا کہ جاریہ بمعنی لونڈی ہے۔بہرحال محصن مرد خواہ محصنہ عورت سے زنا کرے یا کنواری سے یا لونڈی سے بہرحال اسے رجم کیا جائےکہ وہ خود تو محصن ہے،اشعہ کی روایت درست ہے۔
۳
؎یہاں گواہیوں سے مراد اقرار ہے کیونکہ یہ چار اقرار چار گواہیوں کے قائم مقام ہوتے ہیں اس لیے اسے گواہیاں فرمایا گیا جیسے آیت لعان میں الزام زنا اور براءت زنا کو شہادت فرمایا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3566