Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3588

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلَادِ اللّٰهِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إقامة حد من حدود الله خير من مطر أربعين ليلة في بلاد الله". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اکی حدود میں سے ایک سزا کا قائم کرنا اکے شہروں میں چالیس رات کی بارش سے بہتر ہے ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں چالیس رات کی مسلسل موسلادھار بارش مراد نہیں کہ وہ تو مضر ہے بلکہ چالیس دن کی مفید بارش مراد ہے جو ٹھہرٹھہر کر بقدر ضرورت ہو،سزائیں جرموں کی روک،امان کا قیام،آسمانی رحمت کے نزول کا ذریعہ ہیں،حدیث پاک میں ہے کہ انسانوں کے گناہ کی وجہ سے بٹیریں اپنے گھونسلوں میں بھوکی مرجاتی ہیں یعنی ان کے گناہوں سے بارش نہیں ہوتی جس سے جانور بھی مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں،بٹیر کا خصوصیت سے ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ بہت دور تک چُگ آتی ہیں۔چنانچہ بصرہ میں بٹیر ذبح ہو تو اس کے پیٹ سے سبز گندم نکلتی ہے حالانکہ بصرہ سے بہت دور گندم کی فصل ہوتی ہےکئی دن کے راہ پر۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3588