Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3559

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ الْيَهُودَ جَاؤوا إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ؟ " قَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ، فَأْتُوابِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا، وَمَا بَعْدَهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَلَامٍ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرجم، فَقَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ، فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ، فَأَمَرَ بِهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُجِمَا، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ تَلُوحُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ فِيهَا آيَةَ الرَّجْمِ، وَلِكِنَّا نَتَكَاتَمُهُ بَيْنَنَا، فَأَمَرَ بِهِمَا، فَرُجِمَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن عمر، أن اليهود جاؤوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا له أن رجلا منهم وامرأة زنيا، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ما تجدون في التوراة في شأن الرجم؟ " قالوا: نفضحهم ويجلدون قال عبد الله بن سلام: كذبتم إن فيها الرجم، فأتوابالتوراة فنشروها، فوضع أحدهم يده على آية الرجم فقرأ ما قبلها، وما بعدها، فقال عبد الله بن سلام: ارفع يدك فرفع فإذا فيها آية الرجم، فقالوا: صدق يا محمد، فيها آية الرجم، فأمر بهما النبي صلى الله عليه وسلم ، فرجما، وفي رواية قال: ارفع يدك فرفع فإذا فيها آية الرجم تلوح، فقال: يا محمد إن فيها آية الرجم، ولكنا نتكاتمه بيننا، فأمر بهما، فرجما. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن عمر سے کہ یہود رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ذکر کرنے لگے کہ ان میں ایک مردوعورت نے زنا کرلیا ۱؎تو ان سے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم رجم کے متعلق تورات میں کیا پاتے ہو وہ بولے ہم ان کو رسوا کریں اور ان کو سو کوڑے مارے جائیں۲؎عبداابن سلام نے فرمایا ۳؎تم جھوٹ بولتے ہو یقینًا اس میں رجم ہے چنانچہ وہ تورات لائے اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ لیا اور اس کے آگے پیچھے پڑھ دیا ۴؎تو عبداابن سلام نے فرمایا اپنا ہاتھ اٹھا اس نے اٹھایا تو وہاں رجم کی آیت تھی بولے اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) انہوں نے سچ کہا اس میں رجم کی آیت ہے ۵؎تو ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۶؎اور ایک روایت میں ہے فرمایا اپنا ہاتھ اٹھا اس نے اٹھایا تو اس میں رجم کی آیت چمک رہی تھی تو وہ بولا اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)بے شک اس میں رجم کی آیت ہے لیکن ہم لوگ آپس میں اسے چھپاتے تھے ۷؎چنانچہ ان کے متعلق حکم دیا وہ رجم کیے گئے ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی زانی مرد بھی یہودی ہے اور زانیہ عورت بھی،شاید یہ لوگ ان کا فیصلہ کرانے حضور کی بارگاہ میں آئے تھے جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔
۲
؎یعنی بحکمِ توریت رسوا کرنے کی صورت ہم مقرر کریں گے اور کوڑے رب کی طرف سے مقرر ہیں اسی لیےنفضحمتکلم معروف کہا اوریجلدونمجہول غائب۔
۳
؎آپ مشہور صحابی ہیں،پہلے پایہ کے علماء یہود سے تھے،آپ کی کنیت ابو یوسف ہے،حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اس لیے یہود میں آپ کی بڑی عزت تھی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لاتے ہی آپ ایمان لے آئے،آپ نے ۴۳؁ ∞ ہجری کو مدینہ میں وفات پائی۔(اکمال)
۴
؎یہ حرکت عبداابن صور یا یہودی نے کی۔غالبًا توریت شریف میں رسوا کر کے رجم کرنے کا حکم ہوگا اس نے رسوا کرنے کی آیت تو سنا دی مگر رجم کی آیت اپنے ہاتھ تلے چھپالی۔
۵
؎نہایت بے غیرتی سے اقرارکرلیا،بعض روایات میں ہے کہ اس نے صاف مان لیا کہ ہم لوگ غریب کو رجم کردیتے ہیں امیر کو رجم سے بچالیتے ہیں۔
۶
؎اس حدیث کی بنا پر امام شافعی فرماتے ہیں کہاحصانکے لیے اسلام شرط نہیں،د یکھو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودی زانیوں کو رجم کرایا حالانکہ وہ مسلمان نہ تھے،امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو رجم کرانا بحکم اسلام نہ تھا بلکہ بحکم توریت تھا،حاکم اسلام کفار ملزمین پر ان کے دین کے احکام جاری کر سکتا ہے۔چنانچہ کفار کی میراث انہی کے مذہب کے مطابق تقسیم کرے گا ورنہ باقاعدہ اسلام اس زنا کے ثبوت کے لیے چار شرعی گواہ چاہیے تھے یعنی مسلمان متقی پرہیزگار گواہ بھی نہ لیے گئے اور ان سے توریت لانے کا مطالبہ فرمایا گیا اگر بحکم اسلام رجم ہوتا تو توریت منگانے کی ضرورت نہ تھی اور بھی اس قسم کی توجیہیں کی گئیں ہیں مگر فقیر کے نزدیک یہ توجیہ قوی ہے۔اسحاق ابن راھویہ نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا روایت کیمن اشرك باﷲ فلیس بمحصنکافر محصن نہیں،دارقطنی نے یہ ہی روایت موقوفًا نقل فرمائی۔ (مرقات)
۷
؎یعنی آیت رجم توریت سے نکالی نہیں بلکہ چھپالی تھی تاکہ جو مال نہ دے اسے یہ آیت دکھا کر رجم کردیں اور جو مال دے دے اسے رجم سے بچالیں۔
۸
؎اس حدیث کی بنا پر امام شافعی اور امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ ذمی کافر اگر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا۔امام اعظم کے نزدیک اسے سو۱۰۰ کوڑے مارے جائیں گے رجم نہ کیا جائے گا۔خیال رہے کہ چور کے ہاتھ کاٹنا سیاسی حکم ہے اس لیے ذمی کفار اگرچوری کریں تو ان کے بھی ہاتھ کٹیں گے مگر رجم کفارۂ گناہ بھی ہے اس لیے کفار زانی کو رجم نہ کیا جائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3559