Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3587

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَقِيمُوا حُدُودَ اللّٰهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ، وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللّٰهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أقيموا حدود الله في القريب والبعيد، ولا تأخذكم في الله لومة لائم". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے اکی سزائیں قریبی اور دوری لوگوں میں قائم کرو ۱؎اور تم کو اکی راہ میں ملامت کرنے والے کی ملامت مانع نہ ہو۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی شہر میں رہنے والے مجرموں پر حد قائم کرو جو حاکم سے قریب رہتے ہیں اور دیہاتی لوگوں پر بھی حد قائمکرو جو حاکم سے دور رہتے ہیں یا جو تم سے رشتہ میں دور ہوں ان پر بھی حد قائم کرو،جو دور نہ ہوں ان پر بھی قائم کرویا مالدار چودھری مجرموں پر بھی حد قائم کرو جو مالداری کی بنا پر حکام سے قریب رہتے ہیں اور غریب مسکین مجرموں پر بھی حد قائم کرو جو اپنی مفلسی کی وجہ سے حکام سے دور رہتے ہیں غرضکہ ہر مجرم پر قائم کرو۔
۲
؎یعنی شرعی سزائیں دینے میں کسی کافر،منافق،بے دین کی لعنت ملامت کی پرواہ نہ کرو کسی کی رعایت نہ کرو کہ سخت سزاؤں سے ہی امن و امان قائم رہتی ہے ورنہ قوم کا وہ حال ہوتا ہے جو آج ہمارا ہے کہ نہ جان محفوظ ہے نہ مال نہ عزت آبرو یہ صرف اس لیے ہے کہ ہمارے ہاں سزائیں ہلکی ہیں وہ بھی بڑے لوگوں کو نہیں ملتیں۔دُرود ہو اس ذات کریم پر جو ہم کو سب کچھ سکھا گئے اتعالٰی عمل کی توفیق دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3587