Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3575

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به". رواه الترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم جسے قوم لوط کا کام کرتے پاؤ ۱؎تو فاعل و مفعول دونوں کو قتل کردو۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ میںمنسے مراد ہر مجرم ہے شادی شدہ ہو یا کنوارا اور پانے سے مراد صرف دیکھنا نہیں بلکہ جاننا ہے یعنی جس شخص کا اغلام ثابت ہوجائے۔اغلام ثابت ہونے کے لیے دو گواہ یا ایک بار اقرار کافی ہوگا دوسرے جرموں کی طرح کیونکہ یہ زنا نہیں نه اس کی سزا زنا کی سی ہے۔خیال رہے کہ یہاں لڑکے سے بدکاری مراد ہے،اجنبی عورت سے دبر میں بدفعلی کرنے کا حکم یہ نہیں کیونکہ یہ عمل قوم لوط نہیں،اپنی بیوی سے دبر میں وطی حرام ہے مگر اس پر بھی یہ سزا نہیں۔(ازمرقات مع الزیادۃ)
۲
؎خیال رہے کہ امام اعظم کے نزدیک لواطت میں حد نہیں بلکہ تعزیر ہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالی بطور تعزیر قتل کے لیے ہے،صاحبین اور امام شافعی کے ہاں لواطت کا حکم زنا کا سا ہے کہ فاعل اگر محصن ہے تو رجم کیا جائے گا اور اگر غیرمحصن ہے تو سو کوڑے کھائے گا،امام مالک و احمد کے نزدیک بہرحال رجم کیا جائے گا محصن ہویا غیر محصن مگر امام اعظم کا قول بہت قوی ہے کیونکہ یہاں سزا قتل تجویز فرمائی گئی،زنا کی سزا قتل نہیں،نیز یہاں قتل کو عام فرمایا گیا خواہ تلوار سے ہو یا اونچے مکان سے گرا کر یا اس پر دیوار گراکر اسی لیے حضرات صحابہ کرام کا عمل لوطی کے قتل میں مختلف رہا۔اس اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعًا سزا مقرر نہیں اور حد میں شرعی تقرر ضروری ہے،بہرحال قول امام اعظم بہت ہی قوی ہے خود یہ حدیث تائید کررہی ہے،نیز یہفاقتلواجانور سے بد فعلی کے لیے بھی آیا ہے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے مگر تمام کا اتفاق ہے کہ جانور سے بدفعلی کرنے میں حد نہیں تعزیر ہے تو یہاں بھی تعزیر ہی چاہیے کہ فرمان کے الفاظ عالیہ یکساں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3575