- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- مقررہ سزاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 3565
باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3565
مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضُ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ، فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ، حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ، وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَرَّ حِينَ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِي رِوَايَةٍ: "هَلَّا تَرَكتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ".
عن أبي هريرة قال: جاء ماعز الأسلمي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنه قد زنى، فأعرض عنه، ثم جاء من شقه الآخر، فقال: إنه قد زنى، فأعرض عنه، ثم جاء من شقه الآخر ، فقال: يا رسول الله! إنه قد زنى، فأمر به في الرابعة، فأخرج إلى الحرة فرجم بالحجارة، فلما وجد مس الحجارة فر يشتد، حتى مر برجل معه لحي جمل فضربه به، وضربه الناس حتى مات فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم أنه فر حين وجد مس الحجارة ومس الموت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "هلا تركتموه". رواه الترمذي، وابن ماجه، وفي رواية: "هلا تركتموه لعله أن يتوب فيتوب الله عليه".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ماعز اسلمی رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا انہوں نے زنا کیا ہے ۱؎حضور نے اس سے منہ پھیر لیا تو وہ دوسری جانب آگئے۲؎بولے انہوں نے زنا کیا ہے حضور نے پھر ان سے منہ پھیر لیا پھر دوسری طرف سے آگئے بولے یا رسول اﷲانہوں نے زنا کیا ہے تب چوتھی دفعہ میں حکم دیا تو انہیں حرہ کی طرف نکالا گیا رجم کیا گیا پتھروں سے پھر جب انہیں پتھروں کی تکلیف پہنچی دوڑتے ہوئے بھاگ گئے۳؎حتی کہ ایک شخص پر گزرے جس کے پاس اونٹ کی ہڈی تھی ۴؎اس نے یہ ہڈی ان کے ماری اور لوگوں نے بھی انہیں مارا حتی کہ مر گئے۵؎لوگوں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ماعز نے جب پتھروں اور موت کی تکلیف پائی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا ۶؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا شاید وہ توبہ کرلیتے تو اﷲان کی توبہ قبول فرمالیتا ۷؎
شرح حدیث
۱∞؎یہ روایت بالمعنی ہے انہوں نے کہا تھاانی زنیتمیں نے زنا کرلیا ہے،راوی نے اس طرح غائب کے صیغہ سے روایت کیا اور ہوسکتا ہے کہ خود ماعز نے اپنے کو غائب کے صیغے سے بیان کیا ہو یعنی اس فقیر گنہگار حقیر نے زنا کرلیا ہے۔
۲؎اس طرح کہ اولًا یہاں سے چلے گئے پھر غیرت ایمانی کے جوش میں حاضر ہوئے مگر دوسری جانب سے نہ کہ یہاں رہتے ہوئے لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں جہاں ان کا مجلس شریف سے چلاجانا مذکور ہے ہر دفعہ وہ آتے جاتے رہے۔
۳؎یہ بھاگنا غیر اختیاری تھا جیسے ذبح کے وقت جانور کا تڑپنا لہذا اس سے ماعز کا ثواب کم نہ ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر مرد کے رجم کے لیے گڑھا نہ کھودا جائے بلکہ ویسے ہی کھلے میدان میں رجم کیا جائے گا۔
۴؎لَحیلام کے فتحہ ح کے جزم سے جبڑے کی ہڈی جس پر دانت اُگے ہوتے ہیں،مرد کی اس ہڈی پر نیچے داڑھی ہوتی ہے اندر دانت۔
۵؎اس سے معلوم ہوا کہ رجم میں صرف پتھر مارنا ہی ضروری نہیں بلکہ اینٹ،روڑے،ہڈی سے بھی مارا جاسکتا ہے،ہاں لاٹھی یا تلوار سے نہیں مارا جائے گا کہ پھر وہ قتل ہے رجم نہیں،اگر لاٹھی ڈنڈا پھینک کر مارا تو درست ہے کہ یہ قتل نہیں رجم ہی ہے۔
۶؎کیونکہ اس بھاگنے میں اقرار زنا سے رجوع کا احتمال تھا کہ شاید ماعزا اپنے اقرار سے پھرنے کے لیے بھاگ رہے تھے اور زنا کا اقراری اگر حد سے پہلے رجوع کرے تو حد ختم ہوجاتی ہے اور اگر حد کے دوران رجوع کرے تو باقی حد معاف ہوجاتی ہے اور اس کا رجوع درست ہوتا ہے اگر بعد رجوع بھی اسے مار دیا گیا تو مارنے والوں پر قتل خطا کی دیت واجب ہوتی ہے جو ان کے وارث مرحوم کے وارثوں کو ادا کریں گے اس لیے حضور انور نے فرمایا کہ تم کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔
۷؎خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مارنے والوں پر نہ دیت واجب کی نہ ناراضی فرمائی کیونکہ ماعز نے صراحۃً رجوع نہ کیا تھا احتمال تھا کہ شاید رجوع کرتے ہوئے بھاگے یا تکلیف سے بے اختیار بھاگے،اگر صراحۃً رجوع کرلیا ہوتا پھر وہ ہی حکم ہوتا جو عرض کیا گیا۔اس جملہ مبارکہ اور فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زانی اگر رجم نہ ہو صرف سچی توبہ کرے جب بھی معافی کی امید ہے مگر رجم سے معافی یقینی ہے اس لیے وہ حضرات اصرار سے رجم ہوتے تھے رضی اللہ عنہم۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ اگر اقراری شرابی یا اقراری چوری جس کی چوری شراب خوری صرف اس کے اقرار سے ثابت ہو اور کوئی ثبوت نہ ہو اگر حد جاری کرنے سے پہلے یا دوران حد میں اقرار سے پھر جائیں تو حد ختم ہوجائے گی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3565