Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3565

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزٌ الأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضُ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الآخَرِ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّهُ قَدْ زَنَى، فَأَمَرَ بِهِ فِي الرَّابِعَةِ، فَأُخْرِجَ إِلَى الْحَرَّةِ فَرُجِمَ بِالْحِجَارَةِ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ فَرَّ يَشْتَدُّ، حَتَّى مَرَّ بِرَجُلٍ مَعَهُ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ، وَضَرَبَهُ النَّاسُ حَتَّى مَاتَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَرَّ حِينَ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ وَمَسَّ الْمَوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَفِي رِوَايَةٍ: "هَلَّا تَرَكتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ".

عن أبي هريرة قال: جاء ماعز الأسلمي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنه قد زنى، فأعرض عنه، ثم جاء من شقه الآخر، فقال: إنه قد زنى، فأعرض عنه، ثم جاء من شقه الآخر ، فقال: يا رسول الله! إنه قد زنى، فأمر به في الرابعة، فأخرج إلى الحرة فرجم بالحجارة، فلما وجد مس الحجارة فر يشتد، حتى مر برجل معه لحي جمل فضربه به، وضربه الناس حتى مات فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم أنه فر حين وجد مس الحجارة ومس الموت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "هلا تركتموه". رواه الترمذي، وابن ماجه، وفي رواية: "هلا تركتموه لعله أن يتوب فيتوب الله عليه".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ماعز اسلمی رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا انہوں نے زنا کیا ہے ۱؎حضور نے اس سے منہ پھیر لیا تو وہ دوسری جانب آگئے۲؎بولے انہوں نے زنا کیا ہے حضور نے پھر ان سے منہ پھیر لیا پھر دوسری طرف سے آگئے بولے یا رسول اانہوں نے زنا کیا ہے تب چوتھی دفعہ میں حکم دیا تو انہیں حرہ کی طرف نکالا گیا رجم کیا گیا پتھروں سے پھر جب انہیں پتھروں کی تکلیف پہنچی دوڑتے ہوئے بھاگ گئے۳؎حتی کہ ایک شخص پر گزرے جس کے پاس اونٹ کی ہڈی تھی ۴؎اس نے یہ ہڈی ان کے ماری اور لوگوں نے بھی انہیں مارا حتی کہ مر گئے۵؎لوگوں نے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ماعز نے جب پتھروں اور موت کی تکلیف پائی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا ۶؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا شاید وہ توبہ کرلیتے تو اان کی توبہ قبول فرمالیتا ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ روایت بالمعنی ہے انہوں نے کہا تھاانی زنیتمیں نے زنا کرلیا ہے،راوی نے اس طرح غائب کے صیغہ سے روایت کیا اور ہوسکتا ہے کہ خود ماعز نے اپنے کو غائب کے صیغے سے بیان کیا ہو یعنی اس فقیر گنہگار حقیر نے زنا کرلیا ہے۔
۲
؎اس طرح کہ اولًا یہاں سے چلے گئے پھر غیرت ایمانی کے جوش میں حاضر ہوئے مگر دوسری جانب سے نہ کہ یہاں رہتے ہوئے لہذا یہ حدیث گزشتہ کے خلاف نہیں جہاں ان کا مجلس شریف سے چلاجانا مذکور ہے ہر دفعہ وہ آتے جاتے رہے۔
۳
؎یہ بھاگنا غیر اختیاری تھا جیسے ذبح کے وقت جانور کا تڑپنا لہذا اس سے ماعز کا ثواب کم نہ ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر مرد کے رجم کے لیے گڑھا نہ کھودا جائے بلکہ ویسے ہی کھلے میدان میں رجم کیا جائے گا۔
۴
؎لَحیلام کے فتحہ ح کے جزم سے جبڑے کی ہڈی جس پر دانت اُگے ہوتے ہیں،مرد کی اس ہڈی پر نیچے داڑھی ہوتی ہے اندر دانت۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ رجم میں صرف پتھر مارنا ہی ضروری نہیں بلکہ اینٹ،روڑے،ہڈی سے بھی مارا جاسکتا ہے،ہاں لاٹھی یا تلوار سے نہیں مارا جائے گا کہ پھر وہ قتل ہے رجم نہیں،اگر لاٹھی ڈنڈا پھینک کر مارا تو درست ہے کہ یہ قتل نہیں رجم ہی ہے۔
۶
؎کیونکہ اس بھاگنے میں اقرار زنا سے رجوع کا احتمال تھا کہ شاید ماعزا اپنے اقرار سے پھرنے کے لیے بھاگ رہے تھے اور زنا کا اقراری اگر حد سے پہلے رجوع کرے تو حد ختم ہوجاتی ہے اور اگر حد کے دوران رجوع کرے تو باقی حد معاف ہوجاتی ہے اور اس کا رجوع درست ہوتا ہے اگر بعد رجوع بھی اسے مار دیا گیا تو مارنے والوں پر قتل خطا کی دیت واجب ہوتی ہے جو ان کے وارث مرحوم کے وارثوں کو ادا کریں گے اس لیے حضور انور نے فرمایا کہ تم کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔
۷
؎خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مارنے والوں پر نہ دیت واجب کی نہ ناراضی فرمائی کیونکہ ماعز نے صراحۃً رجوع نہ کیا تھا احتمال تھا کہ شاید رجوع کرتے ہوئے بھاگے یا تکلیف سے بے اختیار بھاگے،اگر صراحۃً رجوع کرلیا ہوتا پھر وہ ہی حکم ہوتا جو عرض کیا گیا۔اس جملہ مبارکہ اور فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ زانی اگر رجم نہ ہو صرف سچی توبہ کرے جب بھی معافی کی امید ہے مگر رجم سے معافی یقینی ہے اس لیے وہ حضرات اصرار سے رجم ہوتے تھے رضی اللہ عنہم۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ اگر اقراری شرابی یا اقراری چوری جس کی چوری شراب خوری صرف اس کے اقرار سے ثابت ہو اور کوئی ثبوت نہ ہو اگر حد جاری کرنے سے پہلے یا دوران حد میں اقرار سے پھر جائیں تو حد ختم ہوجائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3565