Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3574

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ كَانَ فِي الْحَيِّ مُخْدَجٍ سَقِيمٍ، فَوَجَدَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَائِهِمْ يَخْبُثُ بِهَا،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "خُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِئَةُ شِمْرَاخٍ فَاضْرِبُوهُ ضَرْبَةً". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَهْ نَحْوُهُ.

وعن سعيد بن سعد بن عبادة: أن سعد بن عبادة أتى النبي صلى الله عليه وسلم برجل كان في الحي مخدج سقيم، فوجد على أمة من إمائهم يخبث بها،فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "خذوا له عثكالا فيه مئة شمراخ فاضربوه ضربة". رواه في "شرح السنة" وفي رواية ابن ماجه نحوه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن سعد ابن عبادہ سے کہ سعد ابن عبادہ ۱؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لائے جو قبیلہ میں تھا ناقص الخلقہ بیمار۲؎وہ ان کی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی پر بدکاری کرتے پایا گیا۳؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بڑی شاخ لو جس میں سو چھوٹی شاخیں ہوں ۴؎ایک بار مار دو۵؎(شر ح سنہ)اور ابن ماجہ کی روایت میں اسی طرح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حق یہ ہے کہ سعید ابن سعد تابعین میں سے ہیں اگرچہ بعض محدثین نے انہیں صحابی مانا اور سعد ابن عبادہ مشہور صحابی انصاری خزرجی ہیں،بیعت عقبہ میں حاضر ہوئے،نقیب مقرر ہوئے،آپ کو غسل خانہ میں جنات نے قتل کیا،بہت دیر کے بعد آپ کی موت کا پتہ لگا۔(مرقات)آپ کی وفات مقام خور ان ملک شام میں ۱۵ھ؁ ∞ میں عہد فاروقی میں ہوئی۔(اکمال)
۲
؎اور بیماری ناقابل علاج جس کے بعد صحت کی امید نہیں،اگر صحت کی امید ہوتی تو تندرست ہونے کے بعد کوڑے لگائے جاتے جیسے حاملہ زانیہ کو حمل جننے کے بعد حد لگائی جاتی ہے۔(لمعات)
۳
؎یا تو چار شخصوں نے اسے زنا کرتے دیکھا جن کی عینی گواہی سے حد قائم ہوئی یا دیکھا تو تھا ایک دونے مگر اس نے خود اقرار کرلیا پہلی بات زیادہ قوی ہے۔
۴
؎عثکالاورشمراخدونوں کے معنی ہیں شاخ مگرعثکالبڑی اور موٹی شاخ کو کہتے ہیں جس میں چھوٹی چھوٹی شاخیں اور ہوں ان چھوٹی شاخوں کوشمراخکہا جاتا ہے جیسے اردو میں ڈال اور ٹہنیعثکالکے معنی گُدّھا کرنا غلط ہے کہ وہ بڑے درخت کا ہوتا ہے اور اٹھ نہیں سکتا۔
۵
؎اس حدیث سے معلوم ہواکہ کوڑے کی سزا میں شرط یہ ہے کہ ملزم مرنے نہ پائے،یہ ایک قسم کا حیلہ ہے کہ حکم قرآنی جاری بھی ہوجائے اور ملزم ہلاک بھی نہ ہو،اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے"وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ"اے ایوب اپنی زوجہ کو جھاڑو سے مار دو اپنی قسم نہ توڑو۔ امام شافعی اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ بیمار زانی کی حد فورًا لگائی جائے دیر نہ کی جائے،امام ابوحنیفہ و مالک و جمہور علماء فرماتے ہیں کہ اگر بیمار کے اچھے ہونے کی امید نہ ہو جیسے دق سل وغیرہ تو دیر نہ لگائی جائے لیکن اگر اچھے ہوجانے کی امید ہو تو ضرور دیر لگائی جائے اچھے ہوجانے پر باقاعدہ کوڑے لگائے جائیں جیسے حاملہ بالزنا کا حکم ہے۔(اشعہ،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3574