Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3582

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الزِّنَا إِلَّا أُخِذُوا بِالسَّنَةِ، وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَظْهَرُ فِيهِمُ الرُّشَا إِلَّا أُخِذُوا بِالرُّعْبِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن عمرو بن العاص قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ما من قوم يظهر فيهم الزنا إلا أخذوا بالسنة، وما من قوم يظهر فيهم الرشا إلا أخذوا بالرعب". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن العاص سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہیں ہے کوئی قوم جس میں زنا پھیل جائے مگر وہ قحط سالی سے پکڑے جاتے ہیں ۱؎اور نہیں ہے کوئی قوم جس میں رشوت عام ہوجائے۲؎مگر وہ مرعوبیت سے پکڑے جاتے ہیں۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب قوم میں زنا پھیل جائے کہ لوگ عمومًا کرنے لگیں تو قحط پھیلے گا خواہ اس طرح کہ بارش بند ہوجائے اور پیداوار نہ ہو یا اس طرح کہ پیداوار تو ہو مگر کھانا نصیب نہ ہو،دوسری قسم کا قحط سخت عذاب ہے جیسا کہ آج کل دیکھا جارہا ہے کہ پیداوار بہت ہے مگر قحط و گرانی کی حد ہوگئی،یہ آج کل کی حرامکاری کا نتیجہ ہے۔
۲
؎رشاکے لغوی معنی ہیں رسی،چونکہ رسی کنویں سے پانی نکالنے کا ذریعہ ہے اس لیے اس وسیلہ کو بھیرشاکہتے ہیں جو غلط فیصلہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے یعنی رشوت۔رشوت یا مال ہو یا کچھ اور چیز کہ رشوت دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی حرام،انصاف حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا جائز ہے مگر لینا حرام ہے یعنی اگر حاکم بغیر رشوت لیے انصاف نہیں کرتا اور فریادی برحق ہے تو وہ رشوت دے کر اپنے لیے حق فیصلہ کراسکتا ہے مگر لینے والا حاکم حرام خور اور مجرم ہے اس کا فرض تھا کہ بغیر رشوت لیے انصاف کرتا۔
۳
؎یعنی رشوت لینے والا شخص مرعوب ہوتا ہے اور رشوت لینے والی قوم پر دوسری قوم کی ہیبت طاری ہوجاتی ہے جیسا کہ آج ہم لوگ کفار سے مرعوب ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3582