Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3586

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ وَهُوَ: "مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ" وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْم.

وعنه أنه قال: "من أتى بهيمة فلا حد عليه". رواه الترمذي وأبو داود، وقال الترمذي: عن سفيان الثوري أنه قال: وهذا أصح من الحديث الأول وهو: "من أتى بهيمة فاقتلوه" والعمل على هذا عند أهل العلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ فرمایا جو جانور سے بدفعلی کرے اس پر حد نہیں ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)اور ترمذی نے ابوسفیان ثوری سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اور وہ یہ ہے کہ جو جانور سے حرام کرے اسے قتل کردو۲؎اور عمل اس پر ہے اہلِ علم کے نزدیک ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎بلکہ اس جرم پر تعزیر ہے وہ یہ کہ حاکم ایسے شخص کو قتل کردے اور جانور کو ذبح کرکے دفن کردے۔
۲
؎یعنی سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کی یہ موقوف حدیث اس مرفوع حدیث سے زیادہ صحیح ہے جس میں فرمایا گیا کہ ایسے شخص کو قتل کرو۔
۳
؎یعنی تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ جانور سے بدفعلی کرنے والے پر حد نہیں بلکہ تعزیر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3586