Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3561

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: "لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ"، قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قَالَ: "أَنِكْتَهَا؟ لَا يَكْنِي قَالَ: نَعَمْ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن ابن عباس قال: لما أتى ماعز بن مالك النبي صلى الله عليه وسلم فقال له: "لعلك قبلت، أو غمزت، أو نظرت"، قال: لا يا رسول الله، قال: "أنكتها؟ لا يكني قال: نعم فعند ذلك أمر برجمه. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب ماعز ابن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۱؎تو آپ نے ان سے فرمایا شاید تو نے بوسہ لے لیا ہوگا یا اشارہ کیا ہوگا۲؎یا دیکھ لیا ہوگا عرض کیا نہیں یارسول اصلی اللہ علیہ وسلم فرمایا تو کیا تو نے اس سے صحبت کرلی کنایۃً ۳؎عرض کیا ہاں تو اس وقت ان کے رجم کا حکم دیا۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ اہلِ مدینہ سے ہیں،صحابی اسلمی ہیں،آپ سے آپ کے بیٹے عبدانے ایک حدیث نقل کی ہے حق تعالٰی نے ان کو اعلیٰ درجہ کی توبہ کی توفیق بخشی ان کے طفیل رب تعالٰی ہمیں بھی توبہ مقبول کی توفیق بخشے۔
۲
؎ہاتھ سے اشارہ کیا ہوگا یا ہاتھ سے اس کا جسم دباکر چھوڑ دیا ہوگا اور اس حرکت کو زنا سمجھ کر تم نے یہ اقرارکرلیا ہوگا۔
۳
؎نکتبنا ہےنیكسے،ضربکا ماضی ہےناك ینیكاسم فاعلنائكہے،مبالغہنیاك۔عربی میں صحبت و جماع،وطی وغیرہ تو کنایہ کے لفظ ہیں مگر یہ لفظ اسی کام کے لیے صریح ہے جیسے اردو میں چودنا اور فارسی میں گائیدن،چونکہ حد میں یقین جرم چاہیے کنایات میں شبہ ہوتا ہے اس لیے حضور انور نے بین لفظ سے اقرار کرایا۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم اقراری زانی کو اقرار سے بچ جانے کی اشارۃً تلقین کرے کیونکہ حدود حتی الامکان دفع کیے جائیں اور حقوق حتی المقدور ادا کرائے جائیں جیسے زکوۃ کفارہ قرض وغیرہ۔ (مرقات)
۴
؎ابوداؤد،نسائی اور عبدالرزاق نے اس روایت میں یہ زائد فرمایا کہ حضور انور نےانکتہاکے ساتھ فرمایا کہ تیرا یہ اس عورت کی اس میں غائب ہوگیا ماعز نے عرض کیا ہاں جیسے سرمہ دانی میں سلائی اور کنویں میں رسی داخل ہوجاتی ہے پھر پوچھا کہ کیا تو جانتا ہے کہ زنا کہتے کسے ہیں۔ ماعز نے عرض کیا حضور جو کام خاوند اپنی بیوی سے حلال کرتا ہے وہ ہی کام میں نے اس سے حرام کیا فرمایا تو یہ باتیں کیوں کرتا ہے ماعز بولے تاکہ آپ مجھے پاک فرمادیں تب آپ نے رجم کا حکم دیا،بعد رجم دوشخصوں کو کہتے سنا کہ ماعز کتے کی موت مارا گیا،حضور نے فرمایا تم اس مقبول بارگاہ الٰہی کی غیبت کررہے ہو اور وہ جنت کی نہروں میں غوطے لگارہا ہے۔ (مرقات)کریم کے کرم کے قربان۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3561