- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- مقررہ سزاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 3562
باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3562
مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! طَهِّرْنِي فَقَالَ: "وَيْحَكَ! ارْجِعْ، فَاسْتَغْفِرِ اللَّه، وَتُبْ إِلَيْهِ"، قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! طَهِّرْنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "فِيمَ أُطَهِّرُكَ؟ " قَالَ: مِنَ الزِّنَا، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَبِهِ جُنُونٌ؟ " فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ: "أَشَرِبَ خَمْرًا؟ " فَقَامَ رَجُلٌ، فَاسْتَنْكَهَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، فَقَالَ: "أَزَنَيْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ، فَلَبِثُوا يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: "اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ،لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ"، ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنَ الأَزْدِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! طَهِّرْنِي، فَقَالَ: "وَيَحَكِ ارْجِعِي، فَاسْتَغْفِرِي اللّٰهَ، وَتُوبِي إِلَيْهِ"، فَقَالَتْ: تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ إِنَّهَا حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَقَالَ: "أَنْتِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ لَهَا: "حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ" قَالَ: وَكفَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ حَتَّى وَضَعَتْ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: قَدْ وَضَعَتِ الْغَامِدِيَّةُ، فَقَالَ: "إِذًا لَا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا، لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ"، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ، قَالَ: فَرَجَمَهَا، وَفِي رِوَايَةٍ أَنَّهُ قَالَ لَهَا: "اذْهَبِي حَتَّى تَلِدِي" فَلَمَّا وَلَدَتْ، قَالَ: "اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ" فَلَمَّا فَطَمَتْهُ، أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبْزٍ، فَقَالَتْ: هَذَا يَا نَبِيَّ اللّٰهِ قَدْ فَطَمْتُهُ،وَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ، فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَحُفِرَ لَهَا إِلَى صَدْرِهَا، وَأَمَرَ النَّاسَ، فَرَجَمُوهَا، فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَليدِ بِحَجْرٍ فَرَمَى رَأْسَهَا، فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِ خَالِدٍ، فَسَبَّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَهْلًا يَا خَالِدُ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَدُفِنَتْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن بريدة قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! طهرني فقال: "ويحك! ارجع، فاستغفر الله، وتب إليه"، قال: فرجع غير بعيد، ثم جاء، فقال: يا رسول الله! طهرني فقال النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك، حتى إذا كانت الرابعة، قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : "فيم أطهرك؟ " قال: من الزنا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أبه جنون؟ " فأخبر أنه ليس بمجنون، فقال: "أشرب خمرا؟ " فقام رجل، فاستنكهه، فلم يجد منه ريح خمر، فقال: "أزنيت؟ " قال: نعم فأمر به، فرجم، فلبثوا يومين أو ثلاثة، ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال: "استغفروا لماعز بن مالك،لقد تاب توبة لو قسمت بين أمة لوسعتهم"، ثم جاءته امرأة من غامد من الأزد، فقالت: يا رسول الله! طهرني، فقال: "ويحك ارجعي، فاستغفري الله، وتوبي إليه"، فقالت: تريد أن ترددني كما رددت ماعز بن مالك إنها حبلى من الزنا، فقال: "أنت؟ " قالت: نعم، قال لها: "حتى تضعي ما في بطنك" قال: وكفلها رجل من الأنصار حتى وضعت، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال: قد وضعت الغامدية، فقال: "إذا لا نرجمها وندع ولدها صغيرا، ليس له من يرضعه"، فقام رجل من الأنصار، فقال: إلي رضاعه يا نبي الله، قال: فرجمها، وفي رواية أنه قال لها: "اذهبي حتى تلدي" فلما ولدت، قال: "اذهبي فأرضعيه حتى تفطميه" فلما فطمته، أتته بالصبي في يده كسرة خبز، فقالت: هذا يا نبي الله قد فطمته،وقد أكل الطعام، فدفع الصبي إلى رجل من المسلمين، ثم أمر بها، فحفر لها إلى صدرها، وأمر الناس، فرجموها، فيقبل خالد بن الوليد بحجر فرمى رأسها، فتنضح الدم على وجه خالد، فسبها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "مهلا يا خالد! فوالذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له، ثم أمر بها، فصلى عليها، ودفنت. رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ ماعز ابن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے بولے یا رسول اﷲمجھے پاک فرمادو ۱؎تو فرمایا افسوس ہے ارے لوٹ جا اﷲسے معافی مانگ لے اور توبہ کرلے ۲؎فرماتے ہیں وہ تھوڑی دور لوٹے پھر آگئے عرض کیا یارسول اﷲمجھے پاک فرمادو ۳؎تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بار ہوئی تب اس سے رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں تجھے کس چیز سے پاک کروں ۴؎عرض کیا زنا سے فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسے دیوانگی ہے ۵؎خبر دی گئی کہ اسے دیوانگی نہیں پھر فرمایا کیا اس نے شراب پی ہے ۶؎تو ایک شخص اٹھا اس نے اس کے منہ کی بو سونگھی تو اس سے شراب کی بو نہ پائی ۷؎تب فرمایا کیا تو نے زنا کیا ہے عرض کیا ہاں تو رجم کیا گیا لوگ دو تین دن ٹھہرے ۸؎پھر رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا ماعز ابن مالک کے لیے دعائے مغفرت کرو ۹؎اس نے ایسی شاندار توبہ کی ہے کہ اگر ایک جماعت کے درمیان وہ بانٹ دی جائے تو ان کو شامل ہوجائے ۱۰؎پھر حضور کی خدمت میں ازد کے قبیلہ غامد کی عورت آئی ۱۱؎بولی یارسول اﷲمجھے پاک فرما دو فرمایا افسوس تجھ پر لوٹ جا اﷲسے معافی مانگ اور توبہ کر ۱۲؎بولی کیا آپ چاہتے ہیں کہ مجھے ایسے لوٹا دیں جیسے ماعز ابن مالک کو لوٹایا تھا یہ بندی تو زنا سے حاملہ ہے ۱۳؎تب فرمایا کہ تُو،بولی ہاں تب اس سے فرمایا حتّٰی کہ تو اپنے پیٹ کے بچہ کو جن دے ۱۴؎راوی نے کہا کہ اس کا ایک انصاری مرد کفیل و ضامن ہوگیا ۱۵؎حتی کہ اس نے جن دیا تب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا عرض کیا کہ غامدیہ نے بچہ جن دیا ۱۶؎فرمایا تب تو ہم اس کو رجم نہ کریں گے اس کے چھوٹے بچے کو یوں ہی نہ چھوڑیں گے ۱۷؎کہ اسے کوئی دودھ پلانے والا نہ ہو تو ایک انصاری مرد کھڑا ہوا عرض کیا کہ اس کا دودھ میرے ذمہ ہے یا نبی اﷲ۱۸؎فرماتے ہیں تب اسے رجم کیا گیا اور ایک روایت میں یوں ہے كه فرمایا جا حتی کہ بچہ جن دے پھر جب جن چکی تو فرمایا جا اسے دودھ پلا حتی کہ اس کا دودھ چھوڑا دے پھر جب اس کا دودھ چھڑا دیا تو بچہ کو لے کر آئی اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا ۱۹؎بولی یا نبی اﷲمیں نے اس کا دودھ چھوڑا دیا ہے اور اب بچہ کھانا کھانے لگا ہے تب حضور نے بچہ ایک مسلمان کے سپرد کیا ۲۰؎پھر اس کے متعلق حکم دیا تو اس کے لیے سینہ تک گڑھا کھودا گیا ۲۱؎اور لوگوں کو حکم دیا انہوں نے اسے رجم کیا ۲۲؎خالد ابن ولید پتھرلا رہے تھے وہ اس کے سر میں مارا ۲۳؎تو خالد کے چہرے پر خون کی چھینٹیں پڑ گئیں اسے خالد نے برا کہا ۲۴؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جا اے خالد ۲۵؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے ۲۶؎کہ اگر یہ توبہ ٹیکس لینے والا کرتا تو اس کو بھی بخش دیا جاتا ۲۷؎پھر حکم دیا تو اس پر نماز پڑھی گئی اور وہ دفن کردی گئی ۲۸؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎سزا قائم فرماکر زنا کی پلیدی سے پاک فرمادو۔معلوم ہواکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پاکی مانگنا شرک نہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَیُزَکِّیۡہِمْ"تزکیہ اور طہار ت کا فرق بارہا بیان ہوچکا۔
۲؎لفظویحكیاویحًالكرحم یا تعجب یا تعریف کے موقعہ پر بولا جاتا ہے یہاں تینوں معنی میں ہوسکتا ہے۔حضور نے ماعز سے گناہ نہ پوچھا تاکہ اس کی پردہ دری نہ ہو۔استغفارسے مراد زبانی توبہ ہے اورتُبسے مراد دلی توبہ۔شعر
جویہاں عیب کسی کےنہیں کھلنےدیتے کب وہ چاہیں گے مری حشرمیں رسوائی ہو
۳؎یعنی حضرت ماعز رضی اللہ عنہ کو توبہ کی طہارت پر صبر نہ آیا،تیمم سے وضو کو افضل جانا اس لیے پھر لوٹے۔
۴؎اﷲ اکبر!یہ ہے حضور انور کی شان ستاری کہ تین بار پردہ ڈالا جب ماعز نے اصرار کیا تب حد جاری کرنے کے لیے صراحۃً اقرار زنا کرایا کہ اس صریحی اقرار کے بغیر یہ سزا دینا درست نہ ہوتا تھا وہ تھا کرم یہ ہے قانون،فیممیںفیبمعنیمنہے یا بمعنیبسببیہ۔
۵؎یہ ارشاد عالی حاضرین بارگاہ سے ہے جو حضرت ماعز کے حالات سے خبردار تھے۔
۶؎معلوم ہوا کہ دیوانے اور نشہ والے کا اقرار زنا معتبر نہیں۔
۷؎اس جملہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نشہ والے کا اقرارمعتبر نہیں خواہ کوئی اقرار ہو۔دوسرے یہ کہ شراب پینے کا ثبوت باقی ہے جس میں شراب نکلے یا منہ کی بو ہے یا بے ڈھنگی چال ہے کہ انسان سیدھا نہ چل سکے مگر ان سب میں منہ کی بو بڑا ثبوت ہے۔
۸؎اس دوران میں ماعز کا کوئی تذکرہ بارگاہ عالی میں نہ ہوا۔
۹؎کہ اس کے گناہ کی معافی تو رجم سے ہی ہوگئی اب اس دعا سے اس کی ترقی درجات ہوگی۔معلوم ہوا کہ کوئی شخص دعائے خیر سے خصوصًا حضور کی دعا سے مستغنی نہیں اور دعائے مغفرت صرف گناہ کی معافی کے لیے نہیں بلکہ بلندی درجات کے لیے بھی ہوتی ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ"۔(مرقات)
۱۰؎اس سے معلوم ہوا کہ زانی کے رجم میں اس کی توبہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رجم کو توبہ قرار دیا اور چونکہ اس نے خود اقرار گناہ کرکے رجم قبول کیا اس لیے اس کا یہ عمل شاندار توبہ بنا،یہاں توبہ کو مادی چیز سے تشبہ دی گئی ہے کہ اس کے لیے تقسیم کا ذکر فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ تقسیم توبہ سے مراد اس کے ثواب کی تقسیم ہے اس دوسری توجیہ کو مرقات نے ترجیح دی۔
۱۱؎ازد بڑے قبیلہ کا نام ہے اور غامد اس کے بطن کا نام جیسے پٹھانوں میں یوسف زئی،کمال زئی وغیرہ۔خیال رہے کہ ازد ابن الغوث اس قبیلہ ازد کے مورث اعلیٰ کا نام ہے ان ازدکی اولاد میں تمام انصار ہیں ان کا لقب ازد شنوہ ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۱۲؎اس سے معلوم ہوا کہ اگر زانی کا زنا ثابت نہ ہو اور وہ خفیہ ہی توبہ کرلے تو مغفرت کی امید ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"کفر و شرک کے سواء جسے چاہے معاف فرمادے،دیکھو یہاں بھی حضور نے اس کا گناہ نہ پوچھا،یہ ہے شانِ ستاری۔
۱۳؎اس بی بی نے اپنے کو غائب کے صیغہ سے تعبیر کیا کیونکہ اس نے اپنے کو بارگاہ عالی کی حاضری کے لائق نہ سمجھا گویا اب میں اس بارگاہ سے غائب ہوچکی ہوں۔(اشعہ)مقصد یہ تھا کہ میں تو اپنے اقرار سے پھرسکتی نہیں کہ میرا حمل میرے جرم کی دلیل ہے ماعز پھر سکتے تھے کہ وہاں کوئی دلیل نہ تھی۔
۱۴؎کیونکہ اس حالت میں تجھے رجم کرنے سے حمل کی جان بلا وجہ ضائع ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ حاملہ کو قتل یا رجم نہیں کیا جاسکتا نہ حق اﷲمیں نہ حق العباد میں لہذا قاتلہ حاملہ سے بچہ جننے کے بعد قصاص لیا جائے گا کیونکہ ماں کے قصور سے بچہ ہلاک نہیں کیا جاسکتا۔
۱۵؎یعنی اس بی بی کی حفاظت حمل جننے کے خرچہ وغیرہ کا میں کفیل ہوں،یہ ملزم کو حاضر کرنے کی کفالت و ضمانت نہیں ہے کہ شرعی حد میں ضمانت جائز نہیں،آج بھی قتل کے ملزم کی ضمانت حکومت نہیں لیتی بلکہ اسے دوران مقدمہ حوالات میں رکھتے ہیں۔
۱۶؎یعنی اس کفیل نے عورت کے بچہ جن دینے کی خبر دے کر دریافت کیا کہ اب اس کے لیے کیا حکم ہے رجم کی جائے گی یا اسے مہلت دی جائے گی۔
۱۷؎یعنی اب بھی ہم اسے رجم نہ کریں گے کیونکہ اب بھی ماں کو رجم کردینے سے بچہ ضائع ہوجائے گا۔
۱۸؎لہذا اسے فی الفور رجم فرما کر پاک فرما دیجئے۔غالبًا یہ سب کچھ اس بی بی کے کہنے سے عرض کیا ہوگا تب حضور نے رجم کا حکم دیا۔
۱۹؎یہ ٹکڑا دینا علامت اس کی تھی کہ اب بچہ مجھ ماں کے بغیر بھی رہ سکتا ہے میرے دودھ کا محتاج نہیں اس سے پتہ چلتا ہے اس بی بی کی استقامت اور خوف خدا کی پختگی کا کہ اتنا دراز عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس کا جوش توبہ کم نہ ہوا برابر حاضر ہوتی ہے اور رجم کی درخواست کرتی رہی۔
۲۰؎یہ روایت گزشتہ روایت کے خلاف ہے پہلی روایت سے معلوم ہوا تھا کہ بچہ جنتے ہی رجم کردی گئی اور بچہ کی شیر خوارگی کسی نے اپنے ذمہ لے لی۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت دودھ چھوڑانے کے بعد رجم کی گئی،شاید یہ واقعہ دوسری عورت کا ہے اسی لیے پہلی عورت کو ازدیہ کہا گیا ہے اور یہ عورت جہنیہ تھی یا پہلی روایت سے یہ روایت زیادہ قوی ہے کہ اس پہلی روایت میں بشیر ابن مہاجر راوی ہے اور اس دوسری روایت میں مقاتل راوی ہے یا پہلی حدیث کا مطلب بھی یہ ہی ہے کہ دودھ چھوڑانے کے بعد رجم کی گئی،وہاںعلی رضاعۃمیں رضاعت سے مراد پرورش ہے۔واﷲ اعلم!(مرقات و نووی)
۲۱؎تاکہ ملزمہ عورت پتھروں کی تکلیف پا کر بھاگ نہ سکے اور اس کی پردہ دری نہ ہو،یہ امرا ستحبابی تھا وجوبی نہیں۔عورت کو رجم کرتے وقت گڑھے میں داب دینا مستحب ہے واجب نہیں۔(ہدایہ،فتح القدیر،مرقات)ظاہر یہ ہے کہ گڑھا کھودنے کا حکم خود سرکار عالی نے دیا۔
۲۲؎ظاہر یہ ہے کہ حضور انور خود بھی وہاں تشریف فرما رہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔فقہاء فرماتے ہیں اگر زنا کا ثبوت گواہوں سے ہو تو پہلے گواہ پتھر ماریں پھر حاکم پھر دوسرے لوگ اور اگر ثبوت خود ملزم کے اقرار سے ہو تو پہلے حاکم پتھر مارے پھر دوسرے لوگ حضرت علی رضی اﷲعنہ سے یوں منقول ہے۔
۲۳؎یقبلحال ہے مگر ماضی کے معنی میں کبھی یقینی ماضی کو حال کے صیغہ سے بیان کردیتے ہیں یہ ظاہر کرنے کو کہ مجھے اس واقعہ کا ایسا یقین ہے جیسے ابھی میرے سامنے ہورہا ہے،اظہار تعجب کے لیے بھی ایسا کیا جاتا ہے،خواب بیان کرتے وقت کہا جاتا ہے کہ میں نے سال پہلے خواب دیکھا کہ فلاں جگہ جارہا ہوں وغیرہ۔
۲۴؎یعنی برے الفاظ سے یاد کرکے فرمایا کہ اس نے میرے کپڑے خراب کردیئے نہ یہ زنا کرتی نہ رجم کی جاتی نہ اس کے خون سے میرے کپڑے نجس ہوتے۔
۲۵؎اور اسے برا نہ کہو کیونکہ اس کی شاندار مغفرت ہوچکی ہے۔
۲۶؎معلوم ہوا کہ اپنے جرم کا اقرار کرنا اس کی سزا لے لینا بھی توبہ ہے اگرچہ منہ سے توبہ کے الفاظ نہ کہے،ندامت و شرمندگی آئندہ کے لیے گناہ سے بچنے کا عہد بھی توبہ ہے۔
۲۷؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کا حکم کرنے کا محکمہ بدترین محکمہ ہے اور وہاں کے ملازمین بدترین قسم کے مجرم ہیں کیونکہ جتنا ظلم اس محکمہ میں ہوتا ہے اتنا دوسرے محکموں میں نہیں ہوتا کہ ناجائز طریقوں سے رعایا کا مال نہایت بے دردی سے وصول کیا جاتا ہے۔
۲۸؎ظاہر یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز نہ پڑھی بلکہ لوگوں کو اس کا حکم دے دیا تاکہ آئندہ کے لیے عبرت ہو جیسے مقروض پر بعض دفعہ حضور نے نماز نہ پڑھی،اس جملہ کے معنی یہ بھی کیے گئے کہ حضور نے اس کے غسل و کفن کا حکم دیا پھر نماز پڑھی یعنیامرکا مفعول غسل و کفن ہے اور فعل بصیغہ معروف ہے اسی وجہ سے آئمہ میں اختلاف ہے،بعض کہتے ہیں کہ سلطان اسلام مرجوم پر نماز نہ پڑھے،بعض فرماتے ہیں کہ پڑھے۔خیال رہے کہ ان لوگوں کا صرف زبانی توبہ نہ کرنا اور اصرار سے اپنے کو رجم کرا لینا اسی لیے تھا کہ اس توبہ کا قبول ہونا مشکوک تھا اور اس توبہ کا قبول ہونا یقینی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3562