- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- مقررہ سزاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 3560
باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3560
مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إنِّي زَنيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: إنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا شَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَبِكَ جُنُونٌ؟ " قَالَ: لَا فَقَالَ: "أُحْصِنْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: "اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ يَقُولُ: فَرَجَمْنَاهُ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ، حَتَّى أَدْركْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ حَتَّى مَاتَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ عَنْ جَابِرٍ بَعْدَ قَوْلِهِ قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَأُدْرِكَ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا، وَصَلَّى عَلَيْهِ".
وعن أبي هريرة قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل وهو في المسجد فناداه: يا رسول الله! إني زنيت، فأعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم ، فتنحى لشق وجهه الذي أعرض قبله، فقال: إني زنيت، فأعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم ، فلما شهد أربع شهادات، دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "أبك جنون؟ " قال: لا فقال: "أحصنت؟ " قال: نعم يا رسول الله قال: "اذهبوا به فارجموه" قال ابن شهاب: فأخبرني من سمع جابر بن عبد الله يقول: فرجمناه بالمدينة، فلما أذلقته الحجارة هرب، حتى أدركناه بالحرة فرجمناه حتى مات. متفق عليه. وفي رواية للبخاري عن جابر بعد قوله قال: نعم فأمر به، فرجم بالمصلى، فلما أذلقته الحجارة فر فأدرك، فرجم حتى مات، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم خيرا، وصلى عليه".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ مسجد میں تھے تو پکارا یارسول اﷲمیں نے زنا کیا ہے ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا تو وہ آپ کے چہرہ انور کے اس رخ کی طرف آیا جس طرف آپ نے منہ پھیرا تھا عرض کیا میں نے زنا کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا پھر جب چار گواہیاں دے چکا۲؎تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا فرمایا کیا تجھے دیوانگی ہے۳؎بولا نہیں فرمایا کیا تو محصن ہوچکا ہے عرض کیا ہاں یارسول اﷲ۴؎فرمایا اسے لے جاؤ رجم کردو ۵؎ابن شہاب نے فرمایا ۶؎کہ مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے حضرت جابر ابن عبداﷲکو فرماتے سنا کہ پھر ہم نے اسے مدینہ میں رجم کیا جب اسے پتھر لگے تو بھاگ گیا ۷؎تا آنکہ ہم نے اسے حرہ میں پکڑلیا ۸؎پھر رجم کیا حتی کہ وہ مر گیا۔ (مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت میں حضرت جابر سےقال نعمکے بعد یوں ہے کہ اس کے متعلق حکم دیا وہ جنازہ گاہ میں رجم کیا گیا ۹؎پھر جب اسے پتھر لگے توبھاگ گیا پھر پکڑ لیا گیا رجم کیاگیا ۱۰؎حتی کہ مرگیا پھر اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ خیر فرمایا اور اس پر نماز پڑھی ۱۱؎
شرح حدیث
۱∞؎لہذا مجھے رجم کر دیجئے تاکہ میں اس گندگی سے پاک ہوجاؤں۔سبحان اﷲ!یہ ہے خوف خدا ہم لوگ اپنا جرم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں وہ حضرات معافی کی کوشش کرتے تھے۔اس نداء سے معلوم ہوا کہ رجم صرف حاکم اسلام کرسکتا ہے دوسرے نہیں کہ ان حضرات نے کسی اور صحابی سے نہ عرض کیا سیدھے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔
۲؎یہاں گواہی سے مراد اقرار ہے کیونکہ یہ اقرار گواہی کے قائم مقام ہے،چونکہ زنا میں چار گواہیاں درکار ہیں اس لیے اقرار بھی چار بار لازم ہے اب بھی حاکم کو یہ ہی چاہیئے۔اس حدیث کی بنا ء پر ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ زنا میں چار اقرار چار جگہ میں چاہئیں،بعض آئمہ کے نزدیک چار اقرار ایک جگہ میں ہی کافی ہیں،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چار جانب چار اقرار کرائے۔
۳؎مرقات نے فرمایا کہ یہاںدعابمعنیسألہے یعنی ان چار اقراروں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دو سوال فرمائے۔اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ مجنون کا اقرار معتبر نہیں ایک روایت میں ہے کہ فرمایا دیکھو یہ نشہ میں تو نہیں ہے اس کا منہ سونگھا گیا تو نشہ میں نہ تھا کیونکہ مدہوش بے ہوش کا بھی اقرار غیر معتبر ہے۔
۴؎امام نووی نے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ امام رجم کے شرائط کی تحقیق کرے اور احصان بھی اقرار سے ثابت ہوجاتا ہے اگر اقرار زنا کے بعد ملزم اپنے اقرار سے پھر جائے تو رجم نہیں کیا جائے گا،یہ بھی معلوم ہوا کہ اقرار زنا کے لیے مزنیہ عورت کا نام لینا ضروری نہیں نہ امام اس سے یہ پوچھے اور اگر وہ کسی عورت کا نام لے بھی تب بھی وہ اس ملزم کے اقرار سے رجم نہیں کی جائے گی کیونکہ ہر شخص کا اقرار اپنے متعلق ہوسکتا ہے عورت خود اقرار کرے تو سزا پائے گی۔
۵؎معلوم ہوا کہ محصن زانی کو صرف رجم کیا جائے گا کوڑے نہ مارے جائیں گے،یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کی ناسخ ہے جس میں کوڑوں کا بھی حکم ہے۔
۶؎ابن شہاب کا نام امام زہری ہے،آپ تابعی ہیں یعنی میں نے حضرت جابر سے خود نہ سنا کسی اور صحابی یا تابعی سے سنا ہے چونکہ امام زہری بڑے پایہ کے محدث ہیں اس لیے ان کا یہ ابہام حدیث کو ضعیف نہ کردے گا کہ اتنا بڑا محدث ثقہ سے ہی روایت کرے گا امام بخاری کی تعلیق بھی معتبر ہے۔
۷؎اس سے معلوم ہوا کہ مرد زانی کو باندھ کر یا گاڑھ کر رجم نہ کیا جائے گا ورنہ وہ بھاگ نہ سکتا البتہ عورت کا نصف حصہ گاڑھ کر رجم کیا جاوے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غامدی عورت کو گاڑھ کر رجم فرمایا تھا کیونکہ مرد کی رجم کی شہرت چاہیے اسی لیے شہر میں بلکہ بازار میں رجم کیا جاوے،عورت کے پردہ کا لحاظ رکھا جائے،کوڑے بھی سب کے سامنے مارے جائیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔
۸؎حرہکے معنے ہیں پتھریلی زمین،مدینہ منورہ میں مدینہ پاک کے دو پہاڑوں کے درمیان کی زمین حرہ کہلاتی ہے یہ جگہ شہر سے متصل ہے۔
۹؎یہ جنازه گاہ جنت البقیع قبرستان میں تھا۔معلوم ہوا کہ جنازه گاہ پر مسجد کے احکام جاری نہ ہوں گے،دیکھو مسجد میں رجم حرام ہے کہ اس سے مسجد خون سے لتھڑ جائے گی مگر جنازہ گاہ میں جائز ہے،اسی طرح جنازہ گاہ میں جنبی آسکتا ہے یہاں مصلی سے مراد نماز جنازہ کی جگہ ہے۔(مرقات) اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ یہ جنازہ گاہ مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترا تھا جو نماز جنازہ کے لیے مقرر تھا مگر مرقات کا قول قوی ہے۔
۱۰؎خیال رہے کہ اقراری زانی اگر رجم کے دوران میں بھاگ جائے توہمارے امام اعظم کے نزدیک اسے چھوڑ دیا جائے گا کہ یہ بھاگنا اپنے اقرار سے پھر جانا ہے اور اقرار زنا میں پھر جانا قبول ہے،امام شافعی کے ہاں اس صورت میں رجم بند کردیا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا اگر اپنے اقرار پر قائم رہے تو رجم کیا جائے گا اگر اقرار سے پھر جائے تو چھوڑ دیا جائے گا،ہماری دلیل وہ حدیث ابوداؤد کی ہے کہ اس موقعہ پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاھلا ترکتموہتم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا مگر چونکہ حد کا ثبوت صراحۃً اقرار سے ہوچکا تھا اور رجوع اقرار صراحۃً نہ تھا اس لیے وہ رجم کردینے والے صحابہ معذور سمجھے گئے اور ان پر قصاص یا دیت لازم نہ فرمائی۔امام مالک نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ ایسی حالت میں بھاگ جانے پر بھی رجم کیا جائے گا وہ اس حدیث کے ظاہر سے دلیل لیتے ہیں۔
۱۱؎یعنی مرحوم کے لیے دعائے مغفرت فرمائی اور اس کی نماز جنازہ خود پڑھی یا صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا،اس جملہ کی اور بھی شرحیں ہوسکتی ہیں مگر یہ شرح ظاہر ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3560