Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3580

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الإِمَارَةِ وَقَعَ عَلَى وَلِيدَةٍ مِنَ الْخُمُسِ،فَاسْتكْرَهَهَا حَتَّى اقْتَضَّهَا، فَجَلَدَهُ عُمَرُ، وَلَمْ يَجْلِدْهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ اسْتكْرَهَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

عن نافع: أن صفية بنت أبي عبيد أخبرته أن عبدا من رقيق الإمارة وقع على وليدة من الخمس،فاستكرهها حتى اقتضها، فجلده عمر، ولم يجلدها من أجل أنه استكرهها. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے کہ صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں خبر دی ۱؎کہ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام۲؎خمس کی لونڈیوں میں ایک کے ساتھ الجھ گیا اسے مجبور کردیا حتی کہ اس کی بکارت توڑ دی۳؎تو حضرت عمر نے غلام کے کوڑے لگائے اور لونڈی کے نہ لگائے کیونکہ اس نے اسے مجبور کیا تھا ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت نافع جناب عبداابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں،اما م القراء ہیں،مدینہ منورہ میں آپ کا مزار مبارک ہے،اس گنہگار نے بار ہا زیارت کی ہے۔اور صفیہ بنت ابو عبید مختار ابن ابی عبید کی بہن ہیں اور حضرت عبداابن عمر کی زوجہ تابعین میں سے ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ،حفصہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہے،ان کے والد ابو عبید جلیل القدر صحابی ہیں،آپ کا بیٹا مختار ابن ابی عبید بڑا فاسق و فاجر ہے،اسے محدثین مختار کذاب کہتے ہیں جیسے حجاج کو مبیر یعنی خونخوار ظالم کہا جاتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قبیلہ ثقیف میں ایک مبیر اور ایک کذاب ہوگا مبیر تو حجاج ہے اور کذاب یہ ہی مختار،اکی شان ہے کہ زندوں سے مردے پیدا فرماتا ہے۔
۲
؎یہ واقعہ خلافت فاروقی کا ہے یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حکومت کے ایک غلام نے۔
۳
؎اقتضف سے بھی آتا ہے اور قاف سے بھی اس کا مصدراقتضاضہے مادہقضٌّیافضٌّدونوں کے معنی ایک ہی ہوتے ہیں یعنی کنواری لڑکی سے صحبت کرکے اس کا پردہ بکارت زائل کردینا،یہاں مشکوۃ شریف میں قاف سے ہے۔(دیکھئے مغرب لمعات)
۴
؎اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ مجبورًا زنا پر سزا نہیں،چونکہ لونڈی مجبور کی گئی تھی اس لیے اسے سزا نہ دی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3580