Main Icon

باب:مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3567

مقررہ سزاؤں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مَاعِزًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ وَقَالَ لِهَزَّالٍ: "لَوْ سَتَرْتَهُ بِثَوْبِكَ كَانَ خَيْرًا لَكَ" قَالَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ: إِنَّ هَزَّالًا أَمَرَ مَاعِزًا أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُخْبِرَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن يزيد بن نعيم، عن أبيه، أن ماعزا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأقر عنده أربع مرات، فأمر برجمه وقال لهزال: "لو سترته بثوبك كان خيرا لك" قال ابن المنكدر: إن هزالا أمر ماعزا أن يأتي النبي صلى الله عليه وسلم فيخبره. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یزید ابن نعیم سے وہ اپنے باپ سے راوی ۱؎کہ ماعز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کے پاس چار بار اقرار کیا تب آپ نے ان کے رجم کا حکم دیا اور ہزال سے فرمایا۲؎کہ اگر تم انہیں اپنے کپڑے سے ڈھک لیتے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا ابن منکدر کہتے ہیں کہ ہزال نے ماعز کو مشورہ دیا تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں حضور کو یہ خبر دیں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ یزید ابن نعیم ابن ہزال اسلمی ہیں،تابعی ہیں اور آپ کے والد نعیم صحابی ہیں۔
۲
؎ھُزّالھکے ضمہ اورزکے شد سے ہے،ان کی لونڈی فاطمہ سے ماعز نے زنا کرلیا تھا،ہزال سے اس کا ذکر خود کیا تو ہزال نے انہیں مشورہ دیا کہ تم حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر اقرار کرو تب ماعز بارگاہ عالی میں حاضر ہوئے اس لیے ہزال سے یہ فرمایا۔
۳
؎خیال رہے کہ جناب ہزال نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ واقعہ عرض نہ کیا بلکہ ماعز کو بھیجا کیونکہ اس موقعہ پر زنا کی شہادت کا نصاب یعنی چار عینی گواہ موجود نہ تھے،اگر ہزال کہتے تو گواہ طلب ہوتے،گواہ پیش نہ ہونے پر اگرچہ انہیں تہمت نہ لگتی کہ مزنیہ لونڈی تھی مگر عتاب میں ضرور آجاتے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زنا وجہ جرم ہے جس کا اظہار نہ ہونے دینا خفیہ توبہ کرادینا افضل ہے۔ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس مسلمان نے اپنے بھائی کا عیب لوجہ اچھپایا تو اتعالٰی دنیا و آخرت میں اس کے عیب چھپائے گا مگر جب ملزم زنا کا عادی ہوجائے تو اس کا اظہار کردینا سزا دلوادینا بہتر ہے کہ زمین کو فساد و گناہ سے پاک و صاف کرنا بہتر ہے خواہ توبہ کے ذریعہ یا سزا کے ذریعہ سے۔اس کی نفیس تحقیق یہاں مرقات میں مطالعہ فرمایئے کہ کہاں حاکم کو گناہ کی خبر دے کر ملزم کو سزا دلوانا بہتر ہے اور کہاں چھپالینا افضل۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3567