Main Icon

باب : صف سیدھی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1085

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا حَتّٰى كَأَنَّمَا يُسَوّٰي بِهَا الْقِدَاحَ حَتّٰى رَأٰى أَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتّٰى كَادَ أَنْ يُكَبِّرَ فَرَأٰى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرَهٗ مِنَ الصَّفِّ فَقَالَ:« عِبَادَ اللهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْلَيُخَالِفَنَّ اللهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن النعمان بن بشير قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي صفوفنا حتى كأنما يسوي بها القداح حتى رأى أنا قد عقلنا عنه ثم خرج يوما فقام حتى كاد أن يكبر فرأى رجلا باديا صدره من الصف فقال:« عباد الله لتسون صفوفكم أوليخالفن الله بين وجوهكم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہماری سیدھی صفیں کرتے تھے یہاں تک کہ گویا ان سے تیر سیدھے لیے جائیں گے ۲؎حتی کہ آپ نے خیال فرمالیا کہ اب ہم آپ سے سیکھ چکے ۳؎پھر ایک دن تشریف لائے تو کھڑے ہوئے حتی کہ تکبیر کہنے والے ہی تھے کہ ایک شخص کو سینہ نکالے دیکھا تو فرمایا کہ الله کے بندو اپنی صفیں سیدھی کرو ورنہ الله تعالٰی تمہاری ذاتوں میں اختلاف ڈال دے گا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں اور نو عمر صحابی کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت کے چودہ مہینہ بعد پیدا ہوئے ،بعد ہجرت انصار میں سب سے پہلے آپ پیدا ہوئے اور مہاجرین میں عبد الله ابن زبیر، حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر آٹھ سال سات مہینے تھی۔
۲
؎یعنی نمازیوں کے کندھے پکڑ پکڑ کر آگے پیچھے کرتے تھے تاکہ صف بالکل سیدھی ہوجاوے۔ خیال رہے کہ تیر کی لکڑی کو پَر اور پیکان لگنے سے پہلے قدح کہتے ہیں اور اس کے لگنے کے بعد سہم ،قدح نہایت سیدھی کی جاتی ہے اسے سیدھا کرنے کے لیے نہایت سیدھی لکڑی لیتے ہیں، جس کے برابر قدح کو لیتے ہیں یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم صفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے جیسے قدح سیدھی کرنے والی لکڑی ۱۲
۳
؎تب آپ نے کندھے پکڑ کر سیدھا کرنا چھوڑ دیا،صرف زبان شریف سے سیدھا کرنے کی ہدایت فرمادیتے تھے ۱۲
۴
؎یعنی اگر تمہاری نماز کی صفیں ٹیڑھی رہیں تو تم میں آپس میں اختلاف اور جھگڑے پیدا ہوجائیں گے،شیرازہ بکھر جائے گا یا تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے کہ ان میں سوز و گداز،درد،خشوع خضوع نہ رہے گا یا اندیشہ ہے کہ تمہاری صورتیں مسخ ہوجائیں جیسے گزشتہ قوموں پر عذاب آئے تھے،یعنی یہاں وجہ يابمعنی ذات ہے یا بمعنی چہرہ۔ خیال رہے کہ عام مسخ وغیرہ ظاہر عذاب حضور مصطفےٰ صلی الله علیہ وسلم کی تشریف آوری سے بند ہوگئے لیکن خاص مسخ وغیرہ اب بھی ہوسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1085