Main Icon

باب : صف سیدھی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1091

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنَا حِلَقاً فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ؟» ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ:«أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُولٰى وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفّ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر بن سمرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فرآنا حلقا فقال: «مالي أراكم عزين؟» ثم خرج علينا فقال:«ألا تصفون كما تصف الملائكة عند ربها؟» فقلنا: يا رسول الله وكيف تصف الملائكة عند ربها؟ قال: «يتمون الصفوف الأولى ويتراصون في الصف» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو ہمیں حلقہ حلقہ دیکھا فرمایا کیا ہے میں تمہیں متفرق دیکھتا ہوں ۱؎پھر ہم پر تشریف لائے تو فرمایا کہ ایسی صفیں کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے اپنے رب کے نزدیک بناتے ہیں ہم نے عرض کیا یارسول الله فرشتے رب کے نزدیک کیسے صفیں بناتے ہیں فرمایا اگلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہم مسجد میں الگ الگ حلقے بنائے بیٹھے تھے ہرشخص اپنے دوستوں کے ساتھ الگ حلقے میں تھا تب آپ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ مسجدوں میں یہ امتیازات مٹا دو، یہ واقعہ جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے پیش آیاتھا جیسا کہباب الجمعہمیں آئے گا۔خیال رہے کہعزینجمععِزَّۃٌکی ہے،بمعنی جماعت۔
۲
؎یعنی مسجد میں صفیں بنا کر بیٹھا کرو تاکہ تم فرشتوں کے مشابہ ہوجاؤ۔ خیال رہے کہ ملائکہ مقربین تو ہمیشہ سے صفیں باندھے رب کی عبادتیں کررہے ہیں اور مدبرات امر اپنی ڈیوٹیوں سے فارغ ہو کر صفیں بناکر عبادتیں کرتے ہیں،بعض زمیں پر، بعض آسمان پر،بعض عرش اعظم کے پاس جس کی تحقیقاِنْ شَاءَا للّٰهُآیندہ کی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1091