Main Icon

باب : صف سیدھی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1105

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: رَأٰى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهٗ فَأَمَرَهٗ أَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

وعن وابصة بن معبد قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي خلف الصف وحده فأمره أن يعيد الصلاة. رواه أحمد والترمذي وأبو داود وقال الترمذي هذا حديث حسن

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وابصہ ابن معبد سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھتے دیکھا تو اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ آخر ی صحابہ میں سے ہیں۹ھ ∞ میں ایمان لائے، بہت پرہیزگار ہمیشہ خوف خدا سے رونے والے تھے، آخر میں کوفہ قیام رہا اور مقام رقہ میں وفات پائی،آپ کی کنیت ابوشدادہے،قبیلہ اوس سے ہیں۔
۲
؎یعنی صف ا ول میں جگہ تھی یہ بلاوجہ اکیلا پیچھے کھڑا ہوا اس کی نماز مکروہ ہوئی اور نماز مکروہ کا لوٹانا مستحب ہے،یہ حکم استحبابی ہے۔بعض علماء کے نزدیک اس صورت میں اس کی نماز فاسد ہوگی،وہ حضرات اس حکم کو وجوبی مانتے ہیں۔خیال رہے کہ اگر صف اول میں جگہ نہ ہو تو یہ آنے والا امام کے پیچھے والے کو ہاتھ لگادے،اگر یہ مسئلے سے واقف ہوگا تو پیچھے آجائے گا ورنہ اس کی نماز کراہت سے بچ جائے گی۔اس حکم سے جنازے کی نماز مستثنٰی ہے،وہاں اگر امام کے علاوہ پانچ آدمی ہوں تو دو ،دو آدمی دو صفیں بنائیں گے اور ایک آدمی تیسری صف تاکہ تین صفوں کی بشارت میت کو حاصل ہوجائے۔خیال رہے کہ یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں اور اکیلے کھڑے ہونے والے کی نماز مکروہ ہے فاسد نہیں،جیساکہ اگلے باب میں آئے گا کہ حضرت ابوبکرہ نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کردیا، پھر صف سے ملے تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے انہیں نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا حالانکہ وہ رکوع کے وقت اکیلے ہی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے۔
۳
؎مگر ابن عبدالبرّ نے اسے مضطرب فرمایا،بیہقی نے ضعیف کہا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1105