Main Icon

باب : صف سیدھی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1093

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «رُصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالأعناق فوالذي نفسي بيده إني لأرى الشيطان يدخل من خلل الصف كأنها الحذف» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنی صفیں سیدھی کرو ۱؎ان میں نزدیکی کرو ۲؎اپنی گردنیں مقابل رکھو ۳؎اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں شیطان کو صفوں کی کشادگی میں بکری کے بچے کی طرح گھستا دیکھتا ہوں ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎رُصُّوْا رَصٌّسے بنا جس کے معنی ہیں سیدھا کرکے ملانا،معنی یہ ہوئے کہ نماز کی صفیں سیدھی بھی رکھو اور ان میں مل کر کھڑے ہو کہ ایک دوسرے کے آپس میں کندھے ملے ہوں۔
۲
؎یعنی صفیں قریب قریب رکھو اس طرح کہ دو صفوں کے درمیان اور صف نہ بن سکے یعنی صرف سجدہ کا فاصلہ رکھو،نماز جنازہ میں چونکہ سجدہ نہیں ہوتا اس لیے وہاں صفوں میں اس سے بھی کم فاصلہ چاہیئے۔
۳
؎اس طرح کہ اونچے نیچے مقام پر نہ کھڑے ہو،ہموار جگہ کھڑے ہوتاکہ گردنیں برابر رہیں،لہذا یہ جملہ مکرر نہیں آگے پیچھے نہ ہونارُصُّوْامیں بیان ہوچکا تھا۔خیال رہے کہ گردنوں کا قدرتی طور پر اونچا نیچا ہونا معاف ہے کہ بعض لمبے اور بعض پستہ قد ہوتے ہیں۔
۴
؎یعنی خزب شیطان جو نماز میں وسوسہ ڈالتا ہے وہ صف کی کشادگی میں بکری کے بچے کی شکل میں داخل ہو کر نمازیوں کو وسوسہ ڈالتا ہے۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ شیطان مختلف شکلیں اختیار کرسکتا ہے،دیکھو اس شیطان کی شکل اپنی تو کچھ اور ہے مگر اس وقت بکری کی شکل میں بن جاتا ہے۔دوسرے یہ کہ رب تعالٰی نے حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو وہ طاقت بخشی ہے کہ خالق کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بھی ہر مخلوق پر نظر رکھتے ہیں۔تیسرے یہ کہ جب شیطان جیسی غیبی مخلوق آپ کی نگاہ سے غائب نہیں تو انسان آپ سے کیسے چھپ سکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1093