Main Icon

باب : صف سیدھی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1102

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بَيْنَ المَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بِأَيْدِي إِخْوَانِكُمْ وَلَا تَذَرُوا فَرَجٰتِ الشَّيْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللهُ وَمَنْ قَطَعَهٗ قَطَعَهُ اللهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ مِنْهُ قَوْلَهٗ : «وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا» . إِلٰى آخِرِهٖ

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم ولا تذروا فرجت الشيطان ومن وصل صفا وصله الله ومن قطعه قطعه الله» . رواه أبو داود والنسائي منه قوله : «ومن وصل صفا» . إلى آخره

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صفیں سیدھی کرو اور اپنے کندھوں کے درمیان مقابلہ رکھو کشادگیاں بند کرو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو شیطان کے لیئے کشادگیاں نہ چھوڑو اور جو صف کو ملائے الله اسے ملائے اور جو صف کو توڑے الله اسے توڑے ۱؎(ابوداؤد)نسائی نے ان ہی کیمَن وَصَلَسے آخر تک روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎صف کا ملانا یہ ہے کہ صف میں جگہ دیکھے اس میں کھڑا ہو کر جگہ پر کردے اور توڑنا یہ ہے کہ اپنے ساتھی سے دور کھڑا ہو،یا ملا ہوا کھڑا تھا اور بلا عذر وہاں سے ہٹ جائے۔ یہ کلام یا دعا ہے یا خبر یعنی جو صف کو ملائے گا خدا اسے اپنی رحمت و کرم سے ملائے، اور جو صف میں فاصلہ اور کشادگی رکھے خدا اسے اپنے کرم و رحمت سے دور رکھے یا جو صف میں ملائے گا خدا اسے اپنی رحمت سے ملائے گا الخ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1102