Main Icon

باب : صف سیدھی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1086

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أنسٍ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهٖ فَقَالَ: «أَقِيْمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِيْ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ قَالَ:«أَتِمُّوا الصُّفُوفَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِيْ»

وعن أنس قال: أقيمت الصلاة فأقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بوجهه فقال: «أقيموا صفوفكم وترصوا فإني أراكم من وراء ظهري» . رواه البخاري. وفي المتفق عليه قال:«أتموا الصفوف فإني أراكم من وراء ظهري»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نماز کی تکبیر کہی گئی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے چہرۂ انور سے ہم پر توجہ فرمائی فرمایا کہ اپنی صفیں سیدھی کرو اور مل کر کھڑے ہو میں تمہیں اپنے پیچھے دیکھتا ہوں ۱؎(بخاری)اور مسلم بخاری میں ہے کہ فرمایا صفیں پوری کرو کیونکہ میں تمہیں اپنی پشت سے دیکھتا ہوں۔

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ دیکھنے سے مراد آنکھ سے دیکھنا ہے۔ یہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ کی آنکھ آگے پیچھے اور پس پردہ اندھیرے اجیالے میں یکساں دیکھتی ہیں۔حق یہ ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا یہ معجزہ صرف نماز سے خاص نہیں تھا نہ حیات شریف سے۔وہ حدیث کہ میں دیوار کے پیچھے کی چیز نہیں جانتا بالکل بے اصل ہے جیسا کہ شیخ نے فرمایا اور اصلے نیست اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے حضرت عیسی روح الله فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم گھر میں کھا کر بچا کر آتے ہو میں بتاسکتا ہوں،یہ تو حبیب الله کی آنکھ ہے صلی الله علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1086