Main Icon

باب : صف سیدھی کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1088

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: «اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِيَنِي مِنْكُم أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّهٰى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» . قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي مسعود الأنصاري قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح مناكبنا في الصلاة ويقول: «استووا ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم ليليني منكم أولوا الأحلام والنهى ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم» . قال أبو مسعود: فأنتم اليوم أشد اختلافا. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھے پکڑتے اور فرماتے تھے سیدھے رہو الگ الگ نہ رہو ورنہ تمہارے دل الگ ہوجائیں گے ۱؎اور تم میں عاقل و بالغ میرے قریب رہا کریں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں پھر وہ جو ان سے قریب ہوں۲؎ابو مسعو د فرماتے ہیں اس لیے آج تم میں بہت اختلاف ہے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ کی شرح ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ صفیں ٹیڑھی ہونے سے قومیں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں کیونکہ قالب کا اثرقلب پر اور قلب کا اثر قالب پر پڑتا ہے،نہانے سے دل ٹھنڈا ہوتا ہے اور دل کی خوشی و غم کا اثر چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے۔
۲
؎یعنی صف اول میں مجھ سے قریب فقہاء صحابہ ہوں جیسے خلفائے راشدین اور عبد الله ابن عباس و عبد الله ابن مسعود وغیرہم تاکہ وہ میری نماز دیکھیں اور نماز کی سنتیں وغیرہ یاد کرکے اوروں کو سمجھائیں اور بوقت ضرورت ہماری جگہ مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھا سکیں ان کے پیچھے وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و عقل میں ان کے بعد ہوں تاکہ ان صحابہ سے یہ نماز سیکھیں۔سُبْحَانَ اللّٰهِ !حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم نماز میں بھی جاری رہتی تھی۔
۳
؎یعنی تم لوگوں نے صفیں سیدھی کرنے کا اہتمام چھوڑ دیا، اس لیے تم میں آپس کے جھگڑے و اختلافات پیدا ہوگئے۔خیال رہے کہ یہ حدیث جماعت کی صدہا مسائل کی اصل ہے۔فقہاء جو فرماتے ہیں کہ نماز میں پہلے مَردوں کی صف ہو،پھر بچوں کی، پھر خنثوں کی،پھر عورتوں کی اس کا ماخذ بھی یہی حدیث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1088