Main Icon

باب: اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2287

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ لِلّٰهِ تَعَالٰى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اِسْمًا مِئَةً إِلَّا وَاحِدَةً ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ". وَفِي رِوَايَةٍ: "وَهُوَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن لله تعالى تسعة وتسعين اسما مئة إلا واحدة ، من أحصاها دخل الجنة". وفي رواية: "وهو وتر يحب الوتر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو ۱؎جو ان ناموں کی محافظت کرے جنت میں جائے گا ۲؎اور ایک روایت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی طاق ہے طاق کو پسندکرتا ہے ۳؎ہے۔ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حق تعالٰی کے دو سو ایک نام دلائل الخیرات شریف میں بیان ہوئے ہیں اور مدارج النبوت میں شیخ نے رب تعالٰی کے ایک ہزار نام گنائے،یہاں تو ننانوے نام وہ گنائے گئے جن کا یادکرنا جنتی ہونے کا ذریعہ ہے کل نام یہ نہیں ہیں۔ان ناموں میں سے بعض ذاتی ہیں،بعض صفاتی،بعض افعالی لہذا اس حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حق تعالٰی کے نام ننانوے سے زیادہ ہیں اور نہ یہ کہ رب کی صفات کمالیہ تو آٹھ ہیں پھر صفاتی نام زیادہ کیوں ہوئے۔
۲
؎یعنی جو مسلمان یہ نام یادکرے اور روزانہ ان کا ورد کیا کرے وہان شاء اللهاول ہی سے جنت میں جائے گا۔
۳
؎یعنی حق تعالٰی ذات و صفات میںوحدہٗ لاشریكہے،وہ ان اعمال کو پسند فرماتا ہے جن میں اخلاص ہو،شرک کا شائبہ نہ ہو اور اس بندے کو پسند فرماتا ہے جو دنیا سے کٹ کر اس کا ہورہے،غرضکہ دوسرے وتر میں بہت احتمالات ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2287