Main Icon

باب: اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2289

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَن بُرَيْدَةَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- سَمِعَ رَجُلًا يَقُوْلُ: اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِيْ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهٗ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَالَ: "دَعَا اللّٰه بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهٖ أَعْطٰى، وَإِذَا دُعِيَ بِهٖ أَجَابَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن بريدة: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سمع رجلا يقول: اللهم إني أسألك بأنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد فقال: "دعا الله باسمه الأعظم الذي إذا سئل به أعطى، وإذا دعي به أجاب". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تو معبود ہے تیرے سواء کوئی معبود نہیں ایک ہے لائق بھروسہ ہے جس نے نہ جنا اور نہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ۱؎تو حضور انور نے فرمایا اس نے اللہ کے اسم اعظم کے ساتھ دعا کی ہے ۲؎جب اسم اعظم سے مانگا جائے تو دیتا ہے اور جب اس نام سے دعا کی جائے تو قبول کرتا ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مولا تیرے ناموں کے توسل وسیلہ سے تجھ سے دعا مانگ رہا ہوں ان ناموں کے صدقے سے میری سن لے،یہ دعا مانگنے والے حضرت ابو موسٰی اشعری تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ وسیلہ کے ساتھ دعا کرنا بہتر ہے وسیلہ خواہ اسماء الہیہ کا ہو خواہ اس کے کسی محبوب بندے کا۔
۲
؎بعض علماء نے فرمایا کہ اللہ اسم اعظم ہے کیونکہ یہ اسم ذات ہے جو سوائے خدا تعالٰی کے کسی پر نہیں بولا جاتا،بعض نے فرمایا کہ"لا الہ الا انت"اسم اعظم ہے۔بعض کے خیال میں رب تعالٰی کے بعض نام بعض کے مقابلہ میں اسم اعظم ہیں جیسے رحمن بمقابلہ رحیم کے اسم اعظم ہے۔
۳
؎اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ دعا میںاَللّٰھُمَّکہنا بہت بہتر ہے کہ اللہ اسم ذات ہے اورمیم میں تمام ان ناموں کی طرف اشارہ ہےجن کے اول میں میم ہےجیسےملك،مالك،منانوغیرہ۔ دوسرے یہ کہ دعائے آداب سے یہ ہے کہ پہلے حمد الٰہی کرے پھر حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم پر درود شریف، پھر اپنے گناہوں کا اعتراف،پھرعرض حاجات۔تیسرے یہ کہ اللہ یااَللّٰھُمَّیالا الہ الا انتاسم اعظم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2289