Main Icon

باب: اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2290

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يُصَلِّيْ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ أَسْأَلُكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "دَعَا اللّٰه بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهٖ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهٖ أَعْطٰى". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن أنس قال: كنت جالسا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في المسجد ورجل يصلي فقال: اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت، الحنان المنان بديع السماوات والأرض، يا ذا الجلال والإكرام يا حي يا قيوم أسألك، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "دعا الله باسمه الأعظم الذي إذا دعي به أجاب، وإذا سئل به أعطى". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اس نے کہا الٰہی میں تجھ سے مانگتا ہوں کیونکہ تیری ہی تعر یف ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو مہربان نعمتیں دینے والاہے ۱؎آسمان و زمین کا موجد ہے اے جلالت و کرم والے اے زندہ اے قائم رکھنے والے میں تجھ سے مانگتا ہوں۲؎نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس نے رب کے نام سے دعا مانگی کہ جب اس نام سے دعامانگی جائے تو قبول فرمایا ہےاور جب اس نام سے کچھ مانگا جائے تو دیتا ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ) ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎حنانکے معنے بہت مہربان،منان کے معنے ہیں بہت احسان کرنے والا۔اس میں اشارۃً عرض کیا گیا کہ تو نے جسے دیا اس کے استحقاق سے نہ دیا اپنے کرم سے دیا۔خیال رہے کہ بندے کا بندے کو احسان جتانا اگر طعنہ زنی کے لیے ہو تو برا ہے اگر مطیع کرنے کے لیے ہو تو اچھا، اللہ تعالٰی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بہت جگہ اپنی نعمتوں کے احسان جتائے ہیں تاکہ بندے اس کی اطاعت کریں اس کا احسان مانیں یہ اسی کا کرم ہے،منّانکے ایک معنے یہ بھی ہیں یعنی احسان جتانے والا۔
۲
؎تیرے سواءکسی سے نہیں مانگتا کہ تو ہی میرا رب ہے میں تیرا ہی بندہ ہوں۔خیال رہے کہ انبیاء،اولیاء، اغنیاء،اطباء سے کچھ مانگنا بالواسطہ رب تعالٰی ہی سے مانگنا ہے،صحابہ کرام نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے جنت مانگی ہے۔
۳
؎ان دونوں حدیثوں میںاللّٰھماورلا الہ الّا انتمشترکہ طور پر موجود ہیں اسی لیے بعض علماء نے فرمایا کہ ان دونوں میں کوئی نام اسم اعظم ہے۔بعض نے فرمایا کہ جمعہ کی ساعت قبولیت دعا اور شبِ قدر کی طرح اسم اعظم بھی مخفی ہے تاکہ بندے اس کی تلاش میں رہیں،یہ تلاش بھی عبادت ہے۔
۴
؎اسے احمد،ابن حبان،حاکم،ابن ابی شیبہ نے کچھ فرق سے روایت فرمایا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2290