Main Icon

باب: اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2293

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- الْمَسْجِدَ عِشَاءً فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهٗ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰه! أَتَقُوْلُ: هٰذَا مُرَاءٍ؟ قَالَ: "بَلْ مُؤْمِنٌ مُنِيبٌ" قَالَ: وَأَبُوْ مُوْسَى الأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهٗ، فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَتَسَمَّعُ لِقِرَاءَتِهٖ ، ثُمَّ جَلَسَ أَبُوْ مُوْسٰى يَدْعُوْ فَقَالَ: اللّٰهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللّٰهُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَحَدًا صَمَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهٗ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَقَدْ سَأَلَ اللّٰه بِاسْمِهِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهٖ أَعْطٰى، وَإِذَا دُعِيَ بِهٖ أَجَابَ" قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰه! أُخْبِرُهٗ بِمَا سَمِعْتُ مِنْكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ" فَأَخْبَرْتُهٗ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ لِي: أَنْتَ الْيَوْمَ لِي أَخٌ صَدِيقٌ حَدَّثْتَنِي بِحَدِيثِ رَسُوْلِ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-. رَوَاهُ رَزِيْنٌ.

عن بريدة قال: دخلت مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- المسجد عشاء فإذا رجل يقرأ ويرفع صوته، فقلت: يا رسول الله! أتقول: هذا مراء؟ قال: "بل مؤمن منيب" قال: وأبو موسى الأشعري يقرأ ويرفع صوته، فجعل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يتسمع لقراءته ، ثم جلس أبو موسى يدعو فقال: اللهم إني أشهدك أنك أنت الله، لا إله إلا أنت، أحدا صمدا ولم يكن له كفوا أحد، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لقد سأل الله باسمه الذي إذا سئل به أعطى، وإذا دعي به أجاب" قلت: يا رسول الله! أخبره بما سمعت منك؟ قال: "نعم" فأخبرته بقول رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال لي: أنت اليوم لي أخ صديق حدثتني بحديث رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عشاء کے وقت مسجد میں گیا تو وہاں ایک شخص بلند آواز سے تلاوت کررہا تھا میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا حضور فرماتے ہیں کہ یہ ریا کار ہے ۱؎فرمایا بلکہرجوع إلی اللهوالا بندہ ہے ۲؎فرمایا اور ابو موسٰی اشعری خوب بلند آواز سے تلاوت کررہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان کی قرأت غور سے سننے لگے۳؎پھر ابو موسیٰ بیٹھ کر دعا مانگنے لگے یوں کہا الٰہی میں گواہ ہوں کہ تو اللہ ہے تیرے سواء کوئی معبود نہیں اکیلا ہے لائق بھروسہ ہے ۴؎جس کا کوئی ہمسرنہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا انہوں نے اللہ کے اس نام سے دعا مانگی کہ جب اس نام سے کچھ مانگا جائے تو رب دیتا ہے جب اس نام سے دعا کی جائے تو قبول کرتا ہے ۵؎میں نے عرض کیا میں انہیں وہ بتادوں جو میں نے آپ سے سنا فرمایا ہاں میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی خبر دی انہوں نے مجھ سے فرمایا تم آج سے میرے بھائی ہو کیونکہ تم نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث پہنچائی ۶؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ شخص آپ کی مسجد شریف میں چیخ کر ذکر و تلاوت کررہا ہے،کیا حضور عالی فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ ریا کار ہے،اگر مخلص ہوتا تو اسے اس قدر چیخنے کی کیا ضرورت تھی یہ لوگوں کو دکھا سنا رہا ہے۔
۲
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کسی پر بدگمانی بلاوجہ نہ کرنی چاہیے مؤمن کا ہر عمل حتی الامکان اخلاص پرمحمول کرنا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ ذکر بالجہر سنت صحابہ ہے اسے حرام کہنا سخت غلطی ہے۔
۳
؎یعنی یہ صاحب حضرت ابو موسٰی اشعری تھے آپ بڑے ہی خوش الحان تھے،حضرت بریدہ آپ کو پہچان نہ سکے اس لیے آپ پر ریا کار ہونے کا احتمال کیا ورنہ آپ جلیل القدر صحابی ہیں آپ پر ریا کاری کا الزام بہت بعیدہے۔ (مرقات)حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کی قرأت سے بہت ہی خوش ہوتے تھے۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم خوش الحانی سے پڑھنا چاہیے،یہ بھی معلوم ہوا کہ دوسرے کی تلاوت سننا سنت ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ تلاوت کے بعد دعا مانگنا سنت صحابہ ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا سے پہلے رب تعالٰی کے اچھے اچھے نام لینا اور اس کے وسیلے سے دعاکرنا سنت ہے۔
۵
؎یعنی ان ناموں میں رب تعالٰی کا اسم اعظم ہے اور اسم اعظم کی یہ تاثیر ہے کہ اس کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی ہیں رب تعالٰی کی جناب سے بھیک ملتی ہے،اس بنا پر بعض نے فرمایا کہلا الہ الا انتاسم اعظم ہے کیونکہ اس میں یہ نام شریف موجود ہے۔
۶
؎یعنی چونکہ تم نے مجھے میرے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث پاک پہنچائی لہذا تم آج سے میرے محسن بھائی ہو اور چونکہ تم نے مجھے ایک خوشخبری بھی سنائی لہذا آج سے تم میرے ولی دوست بھی ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ محدثین و فقہاء سے محبت کرنا چاہیےکیونکہ یہ حضرات ہمارے محسن ہیں کہ ہم تک حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان پہنچاتے ہیں یہ سنت ہے،بڑے بدنصیب ہیں وہ جو محدثین یا علماء سے نفرت یا عداوت رکھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2293