Main Icon

باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5509

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ". قَالَ شُعْبَةُ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَوْ قَالَهُ قَتَادَةُ؟ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن شعبة عن قتادة عن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "بعثت أنا والساعة كهاتين". قال شعبة: وسمعت قتادة يقول في قصصه كفضل إحداهما على الأخرى، فلا أدري أذكره عن أنس أو قاله قتادة؟ . متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شعبہ سے وہ قتادہ سے وہ جناب انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح بھیجے گئے ہیں ۱∞؎شعبہ نے فرمایا کہ میں نے قتادہ کو انکے وعظوں میں فرماتے سنا۲؎کہ جیسے ان دونوں میں سے ایک کی زیادتی دوسری۳؎پر مجھے یہ خبر نہیں کہ اسے حضرت انس سے روایت کیا یا قتادہ نے خود کہا۔(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ھاتینسے اشارہ کلمہ کی اور بیچ کی انگلی کی طرف ہے۔اور اس فرمان عالی کے چند معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان میں کوئی انگلی نہیں ایسے ہی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں،ہمارا دین قیامت سے ملا ہوا اور قیامت تک ہے یا ہم قیامت سے بہت قریب ہیں۔کلمہ کی انگلی بیچ کی انگلی سے قریب یا ہم قیامت سے وہاں کے حالات سے خبردار ہیں جیسے قریب والا اپنے قریب والے کے حالات سے خبردار ہوتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ بڑی انگلی کا کنارہ کلمہ کی انگلی کے کنارہ سے اوپر ہے مگر ہے قریب ایسے ہی قیامت ہمارے بعد مگر ہے قریب،حضور کی تشریف آوری علامات قیامت سے ایک علامت ہے۔۲؎جس تقریر میں احکام شرعی یا رحمت و عذاب کا ذکر ہو اسے وعظ کہتے ہیں اورجس میں یہ چیزیں نہ ہوں بلکہ گزشتہ یا آئندہ کے واقعات وغیرہ ہوں اسے قصہ کہتے ہیں اور مقرر کو قاضی۔۳؎یہ دوسری حدیث ہے اس میں آخری معنی مراد ہیں کہ بڑی انگلی کلمے کی انگلی سے کچھ ہی بڑی ہے ایسے ہی قیامت ہم سے کچھ ہی دور ہے یہ جملہ پہلے جملہ کی شرح نہیں ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5509