Main Icon

باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5513

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمُسْتَوْرَدِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "بُعِثْتُ فِي نَفْسِ السَّاعَةِ، فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ" وَأَشَارَ بِأُصْبَعَيْهِ السبَّابَةِ وَالْوُسْطَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن المستورد بن شداد عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "بعثت في نفس الساعة، فسبقتها كما سبقت هذه هذه" وأشار بأصبعيه السبابة والوسطى. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مستورد ابن شداد سے ۱∞؎وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں قیامت کے اندر بھیجا گیا ہوں ۲؎تو میں قیامت سے اس طرح پہلے ہوں جیسے یہ انگلی اس سے اور اپنی دو انگلیوں کلمہ کی اور بیچ کی طرف اشارہ کیا۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بہت کمسن صحابی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت چھوٹے بچے تھے مگر آپ سے بہت احادیث مروی ہیں اولًا کوفہ میں پھر مصر میں رہے۔۲؎یعنی میری بعثت اس وقت ہوئی ہے جب علامات قیامت شروع ہوچکی ہیں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ نفس سے مراد ابتداء ہے جب کہ اس کی نشانیاں ظاہر ہونے لگی ہیں،اسی سے ہے"وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ"بلکہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری علامت قیامت ہے۔۳؎اس جملہ کی شرح ابھی گزر گئی۔اس میں اشارۃً فرمایا کہ ہم قیامت کے پڑوسی ہیں جیسے ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی سے بے خبر نہیں ہوتا ایسے ہی ہم قیامت سے بے خبر نہیں اور جیسے بیچ کی انگلی کچھ ہی بڑی ہے پہلی انگلی سے یونہی قیامت کچھ ہی دور ہے،ہم سے ہماری آمد ہوچکی اب قیامت ہی کاانتظار کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5513