Main Icon

باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5515

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَثَلُ هَذِهِ الدُّنْيَا مَثَلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ فِي آخِرِهِ، فَيُوشِكُ ذَلِكَ الْخَيْطُ أَنْ يَنْقَطِعَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

عن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "مثل هذه الدنيا مثل ثوب شق من أوله إلى آخره فبقي متعلقا بخيط في آخره، فيوشك ذلك الخيط أن ينقطع". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس دنیا کی مثال اس کپڑے کی سی ہے جو اول سے آخر تک کاٹ دیا گیا پھر وہ آخر میں ایک دھاگے سے ہلکا رہ گیا قریب ہے کہ یہ دھاگہ ٹوٹ جاوے ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہ تشبیہ نہایت ہی بلیغ ہے جس میں بتایا گیا ہے دنیا اب قریب الختم ہے مگر یہ قرب رب تعالٰی کے علم کے لحاظ سے ہے نہ کہ ہمارے حساب سے،وہاں کا ایک دھاگہ بھی بہت دراز ہوتا ہے اس لیے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ قریبًا اس فرمان کو چودہ سو برس ہوچکے اب تک وہ دھاگہ ٹوٹا ہی نہیں۔خیال رہے کہ آدم علیہ السلام تو آخری مخلوق ہیں اور انسان انکی اولاد دنیا آپ سے کروڑوں بلکہ اربوں سال پہلے پیدا ہو چکی تھی،فرشتے،آسمان زمین،چاند ستارے سورج، پھر زمین کے جانور وغیرہ سب پہلے ہی پیدا ہوچکے تھے اور قیامت میں یہ ساری مخلوق فنا کردی جاوے گی یا بے ہوش اور قیامت حضرت آدم علیہ السلام کے بعد ساڑھے سات ہزار سال بعد قائم ہوگی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم آدم علیہ السلام سے چھ ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ کے بعد پیدا ہوئے تو ظاہر ہے کہ اس فرمان عالی کے وقت دنیا دھاگے میں لگی رہ گئی تھی اب تو اس فرمان عالی کو بھی پونے چودہ سو سال گزرے اب تو قیامت بہت ہی قریب ہے رب تعالٰی اس کا خوف نصیب کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5515