Main Icon

باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5512

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رِجَالٌ مِنَ الأَعْرَابِ يَأْتُونَ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَيَسْأَلُونَهُ عَنِ السَّاعَةِ، فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ فَيَقُولُ: "إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: كان رجال من الأعراب يأتون النبي -صلى الله عليه وسلم- فيسألونه عن الساعة، فكان ينظر إلى أصغرهم فيقول: "إن يعش هذا لا يدركه الهرم حتى تقوم عليكم ساعتكم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ دیہاتی لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آتے تھے تو آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے تھے ۱∞؎تو آپ ان میں سے سب سے چھوٹے کی طرف نظر فرماتے تھے کہ اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہ آئے گا کہ حتی کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہوجاوے گی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وہ لوگ ساعت سے قیامت کبریٰ یعنی حشرونشر کا دن مراد لیتے تھے،پوچھتے تھے کہ اب سے کتنے عرصہ بعد قیامت کبریٰ قائم ہوگی،حضور انور جواب میں یہ نہ فرماتے تھے کہ تم مشرک ہوگئے کہ تم نے قیامت کا سوال مجھ سے کیا یہ تو اللہ تعالٰی ہی کو معلوم ہے کسی اور کو اس کا علم ماننا شرک ہے کفر ہے بلکہ احسن طریقہ سے اس سوال کا جواب دیتے تھے۔۲؎یہاں ساعت سے مراد قیامت صغریٰ یعنی ہر ایک کی اپنی موت ہے یا قیامت وسطیٰ یعنی اس قرن کا ختم ہوجانا۔یہ جواب حکیمانہ ہے کہ تم بڑی قیامت کی فکر کیوں کرتے ہو،تم اپنی قیامت کی فکر کرو یعنی موت کی وہ بہت قریب ہے اسی بچہ کے بڑھاپے سے پہلے تم سب مرجاؤ گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5512