Main Icon

باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1821

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِتَمْرَةٍ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ: "لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ لأَكْلَتُهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أنس قال: مر النبي -صلی اللہ عليه وسلم- بتمرة في الطريق فقال: "لولا أني أخاف أن تكون من الصدقة لأكلتها". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستہ میں ایک کھجور پر سے گزرے تو فرمایا کہ مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ صدقہ کا ہوگا تو میں اسے کھالیتا ۱؎ (مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱؎ یعنی خطرہ یہ ہے کہ یہ کھجور زکوۃ کی ہو جو مالک کے ہاتھ سے گر گئی ہو اس لیے ہم اسے نہیں کھاتے،اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو ہم اسے کھالیتے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد پر تاقیامت زکوۃ لینا حرام ہے کیونکہ یہ لوگوں کے ہاتھ و مال کا میل ہے ان ستھروں کو کیونکر جائز ہوسکتاہے جیساکہ آگے عرض ہوگا۔دوسرے یہ کہ لقطہ یعنی پڑی ہوئی چیز اگر معمولی ہوجس کی تلاش مالک نہ کرے گا نہ اس کے مالک کو ڈھونا ضروری ہے نہ اس کے سنبھالنے اور اعلان کرنے کی ضرورت ہے بلکہ فورًا اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔لقطہ کی احادیث قیمتی چیز کے متعلق ہیں جن کی مالک تلاش کرے۔ تیسرے یہ کہ فتویٰ اور تقویٰ میں فرق ہے فتویٰ محرمات سے بچنے کا ہے مگر تقویٰ یہ ہے کہ شبہات سے بھی بچے مگر شبہ اور وہم میں فرق ہے وہمیات کا اعتبار نہیں۔ولایتی کپڑے کے تھان بازار میں فروخت ہوتے ہیں ان میں شبہ کرنا یہ گندے پانی سے دھوئے گئے ہوں گے تقویٰ نہیں وہم ہے، صحابہ کرام غنیمت میں کفار کے لباس پاتے تھے اور بے تکلف استعمال کرتے تھے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار بادشاہوں کے ہدیے لیے اور استعمال فرمائے۔خیال رہے کہ یہاں تعلیم امت کے لیے یہ ارشادہے کہ متشابہات سے بچو ورنہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم تو ہر ایک چیز کی حقیقت و اصلیت سے خبردار ہیں جیساکہ ہم بار ہا اسی شرح میں اور اپنی کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں ثابت کرچکے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1821