- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1825
باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1825
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا عَتقَتْ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ"، وَدَخَلَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدُمِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: "أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ؟ " قَالُوا: بَلَى، وَلَكِنَّ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بهِ عَلَى بَرِيرَةَ، وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، قَالَ: "هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن عائشة قالت: كان في بريرة ثلاث سنن: إحدى السنن أنها عتقت، فخيرت في زوجها، وقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "الولاء لمن أعتق"، ودخل رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم والبرمة تفور بلحم، فقرب إليه خبز وأدم من أدم البيت، فقال: "ألم أر برمة فيها لحم؟ " قالوا: بلى، ولكن ذلك لحم تصدق به على بريرة، وأنت لا تأكل الصدقة، قال: "هو عليها صدقة، ولنا هدية". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ میں تین شرعی حکم ہوئے ۱؎ ایک حکم یہ کہ وہ آزاد کی گئیں تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا۲؎ اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ولا آزاد کرنے والے کے لیے ہے۳؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ ہانڈی گوشت سے ابل رہی تھی آپ کی خدمت میں روٹی اور گھر کا کوئی سالن پیش کیا گیا تو فرمایا کہ کیا مجھے گوشت کی ہانڈی نظر نہیں آرہی عرض کیا ہاں لیکن یہ وہ گوشت ہےجو بریرہ پر صدقہ کیا گیا اور حضور آپ صدقہ تو کھاتے نہیں تو فرمایا وہ ان پر صدقہ ہے ہمارے لیے ہدیہ ہے ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱؎ بریرہ رضی اللہ عنھا بروزن کریمہ صحابیہ ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ کی مولاۃ یعنی آزادکردہ لونڈی ہیں،آپ نے حضرت ابن عباس،عروہ ابن زبیر سے احادیث روایت کیں یعنی حضرت بریرہ کے ذریعہ ہم کو تین شرعی مسائل معلوم ہوئے۔
۲؎ حضرت بریرہ کے خاوند کا نام مغیث تھا جو پہلے غلام تھے حضرت بریرہ کے آزاد ہونے کے وقت آزاد ہوچکے تھے،جب آپ آزاد ہوئیں تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو خیار عتق دیا کہ چاہیں نکاح باقی رکھیں یا فسخ کرادیں۔معلوم ہوا کہ لونڈی کو آزادی پر خیار عتق ملتا ہے خاوند غلام ہو یا آزاد۔اس کی پوری بحث ان شاء اللہ کِتَابُ النِّکَاحِ اور کِتَابُ الْعِتْقِ میں آئے گی۔
۳؎ حضرت بریرہ ایک یہودی کی لونڈی تھیں جس نے آپ کو مکاتب کردیا تھا کہ اتنا مال دو تو تم آزاد ہو،آپ مال دینے سے عاجز ہوئیں تو حضرت عائشہ صدیقہ سے عرض کیا آپ نے فرمایا تمہارا مال میں دے دیتی ہوں اپنے مالک سے کہو کہ تمہیں میرے ہاتھ فروخت کردے پھر میں تم کو آزاد کردوں گی ان کے مالک نے کہا کہ ہاں ہم فروخت تو کردیں گے مگر اس شرط سے کہ تمہاری ولاء یعنی آزاد کرنے کا حق ہم کو رہے یہ مسئلہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وِلَاء آزاد کرنے والے کو ہے نہ کہ فروخت کرنے والے کو،یہ دوسرا مسئلہ حضرت بریرہ کے ذریعہ معلوم ہوا ولاء کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اگر آزاد کردہ غلام لاوارث فوت ہوجائے تو میراث مولے کو ملتی ہے اسی طرح اگر مولی لاوارث فوت ہو تو یہ غلام میراث لیتا ہے۔
۴؎ یعنی بریرہ سے کہو کہ اپنے اس گوشت میں سے جو انہیں صدقہ ملا ہے ہم کو بھی دیں کیونکہ صدقہ ان پر ختم ہوچکا اب ہم کو بریرہ کی طرف سے ہدیہ ہوکر ملے گا جو ہمارے لیے مباح ہوگا۔اس سے تین مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بنی ہاشم کا آزادکردہ غلام زکوۃ نہیں لے سکتا مگر دوسروں کا غلام زکوۃ لے سکتا ہے،چونکہ حضرت عائشہ قرشیہ تو تھیں مگر ہاشمیہ نہ تھیں اس لیے بریرہ کو صدقہ لینا درست ہوا۔دوسرے یہ کہ اپنی بیوی یا بیوی کی لونڈی یا اولاد سے کچھ مانگنا جس میں ذلت نہ ہو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی جائز ہے چہ جائیکہ اور کوئی،جس سوال میں ممانعت ہے وہ ذلت والا سوال ہے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ سے گوشت طلب فرمایا۔تیسرے یہ کہ ملکیت بدل جانے سے حکم بدل جاتا ہے لہذا اگر فقیر کو زکوۃ دی گئی اس نے اس زکوۃ سے کسی غنی یا سید کی دعوت کردی یا وہ زکوۃ کی رقم کسی مسجد سرائے یا کنوئیں پر خیرات کرکے لگادی تو جائز ہے کہ زکوۃ تو فقیر پرختم ہوگئی اب یہ فقیر کی طرف سے ہدیہ ہے،دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ پر صدقہ کیا ہوا گوشت کھالیا کہ اب یہ ہدیہ و نذرانہ بن گیا تھا،اس سے بہت سے فقہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔حضرت ابن عمر کو جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا صدقہ دیا ہوا گھوڑا فقیر سے خریدنے کو منع فرمادیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس لیے رعایۃً دینا چاہتا تھا کہ آپ نے اسے صدقہ دیا تھا یہ رعایت کرانا ممنوع تھا لہذا احادیث میں تعارض نہیں ۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1825