Main Icon

باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1827

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لأَجَبْتُ. وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم: "لو دعيت إلى كراع لأجبت. ولو أهدي إلي ذراع لقبلت". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر مجھے پائے(یعنی گائے بکری کے کُھر وغیرہ)کی طرف دعوت دی جائے تو قبول کرلوں اور اگر مجھے دستی دی جائے تو منظور فرمالوں ۱؎ (بخاری)

شرح حدیث

۱؎ یعنی ہم کو معمولی آدمی کی دعوت اور معمولی ہدیہ قبول فرمانے میں عار نہیں ضرور قبول فرمائیں گے،اس میں مالداروں بلکہ بادشاہوں کو تعلیم ہے کہ غریبوں اور اپنے نوکروں کے حقیر ہدیوں کو نہ ٹھکراؤ ان کے اخلاص کی قدر کرو اور ہم غریبوں کی ہمت افزائی ہے کہ جس قدر ہوسکے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالی میں مال و اعمال کے ثوابوں کا ہدیہ کرتے رہیں۔یہاں کراع سے مراد کُھرے(گائے بکری کے پائے) ہیں نہ کہ کراع الغمیم منزل جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی فقیر صدقہ کا معمولی مال بھی لے کر ہماری دعوت کردے تو ہم قبول فرمالیں گے کیونکہ صدقہ اس پر ختم ہوچکا اسی لئے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1827