Main Icon

باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1830

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لا تحل الصدقة لغني، ولا لذي مرة سوي". رواه الترمذي وأبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ صدقہ نہ تو غنی کو حلال ہے نہ صحیح اعضاء والے کو ۱؎(ترمذی، ابوداؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث حضرت امام شافعی کی دلیل ہے،ان کے ہاں تندرست اور کمانے کی قدرت رکھنے والا زکوۃ نہیں لے سکتا اگرچہ فقیر ہو،امام اعظم کے ہاں لے سکتا ہے،امام اعظم کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے "لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللهِ"الایہ۔اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل کہ سرکار اصحاب صفہ کو جو ستر تھے اور سب کمانے پر قادر تھے مگر انہوں نے اپنے کو علم دین سیکھنے کے لیے وقف کردیا زکوۃ دیتے تھے، اس کا ذکراسی آیت مذکورہ میں ہے یہ حدیث اس آیت اس عمل سے منسوخ ہے یا یہاںلَایَحِلُّکے معنے ہیں لائق نہیں،یعنی غنی کو صدقہ لینا لائق نہیں حرام ہے اور تندرست فقیر کو لائق نہیں۔(غیر مناسب ہے)یا صدقہ سے مراد بھیک مانگنا ہےجیسا کہ اگلے باب کی احادیث سے ثابت ہے،وہ احادیث اس حدیث کی شرح ہیں امام اعظم کا مذہب قوی ہےکیونکہ رب تعالٰی نے زکوۃ کے جو آٹھ مصرف بیان فرمائے"اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ"الایہ۔ان میں مجبور بیمار یا تندرست کی قید نہ لگائی۔معلوم ہوا کہ ہر فقیر تندرست یا بیمار زکوۃ لے سکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1830