Main Icon

باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1823

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ هٰذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عبد المطلب بن ربيعة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس، وإنها لا تحل لمحمد، ولا لآل محمد". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالمطلب ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ صدقات لوگوں کے میل ہیں ۱؎ یہ نہ حضور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور نہ آپ کی آل کو حلال ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ زکوۃ و فطرہ نکل جانے سے لوگوں کے مال ا ور دل پاک و صاف ہوتے ہیں جیسے میل نکل جانے سے جسم یا کپڑا، رب تعالٰی فرماتاہے:"خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا"لہذا یہ مسلمانوں کا دھوون ہے۔
۲
؎یہ حدیث ایسی واضح اور صاف ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی یعنی مجھے اور میری اولاد کو زکوۃ لینا اس لیے حرام ہے کہ یہ مال کا میل ہے لوگ ہمارے میل سے ستھرے ہوں ہم کسی کا میل کیوں لیں،اب بعض کا یہ کہنا کہ چونکہ سادات کو خمس نہیں ملتا اس لیے اب وہ زکوۃ لے سکتے ہیں غلط ہے کہ نص کے مقابل چونکہ اور کیونکہ نہیں سنا جاتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1823