Main Icon

باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1822

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: "أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كِخْ كِخْ" لِيَطْرَحَهَا، ثُمَّ قَالَ: "أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ؟ ! ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: "أخذ الحسن بن علي تمرة من تمر الصدقة فجعلها في فيه، فقال النبي -صلی اللہ عليه وسلم-: "كخ كخ" ليطرحها، ثم قال: "أما شعرت أنا لا نأكل الصدقة؟ ! ". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت حسن ابن علی نے صدقہ کے چھوہاروں میں سے ایک چھوہارا لےکر اپنے منہ میں ڈال لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخ اخ تاکہ وہ اسے تھوک دیں پھر فرمایا کہ کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہم صدقے نہیں کھایا کرتے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎ اس حدیث نے فیصلہ فرمادیا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو زکوۃ لینا حرام ہے۔اَنَا جمع فرماکر تا قیامت اپنی اولاد کو شامل فرمالیا یہ ہی حق ہے اسی پر فتویٰ ہے ۔بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ حکم اس زمانہ میں تھا اب سید زکوۃ لے سکتے ہیں یا سید کی زکوۃ سید لے سکتے ہیں یہ تمام مرجوع قول ہیں،فتویٰ اس پر نہیں۔خیال رہے کہ بنی ہاشم سے مراد آل عباس، آل جعفر، آل عقیل، آل حارث ابن مطلب اور آل رسول ہیں،ابولہب کی مسلمان اولاد اگرچہ بنی ہاشم تو ہیں مگر یہ زکوۃ لے سکتے تھے اور لے سکتے ہیں کیونکہ زکوۃ کی حرمت کرامت و عزت کے لیے ہے،ابو لہب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء کی کوشش میں رہا اسی لیے وہ اور اس کی اولاد اس عظمت کی مستحق نہ ہوئی۔(ازلمعات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی ناسمجھ اولاد کو بھی ناجائز کام نہ کرنے دے،وہ دیکھو حضرت حسن اس وقت بہت ہی کمسن اور ناسمجھ تھے جیساکہ کخ کخ فرمانے سے معلوم ہورہا ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی زکوۃ کا چھوہارا نہ کھانے دیا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ ناسمجھ لڑکوں کو سونے چاندی کا زیور پہنانا حرام ہے۔اس مسئلہ کی ماخذ یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے یہ قاعدہ بہت مفید ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1822