Main Icon

باب: جن لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1829

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: اصْحَبْنِي كَيْمَا تُصِيبَ مِنْهَا، فَقَالَ: لَا، حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَسْأَلَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: "إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا، وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

عن أبي رافع: أن رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- بعث رجلا من بني مخزوم على الصدقة، فقال لأبي رافع: اصحبني كيما تصيب منها، فقال: لا، حتى آتي رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- فأسأله، فانطلق إلى النبي -صلی اللہ عليه وسلم- فسأله، فقال: "إن الصدقة لا تحل لنا، وإن موالي القوم من أنفسهم". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر مقر ر کرکے بھیجا اس نے ابو رافع سے کہا کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو کہ تم بھی کچھ پالو ۱؎ وہ بولے نہیں حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھ لوں۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ہم کو صدقہ حلال نہیں اور قوم کا غلام ان ہی میں سے ہوتا ہے ۳؎ (ترمذی،ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎خلاصہ یہ ہے کہ کسی مخزومی کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ پر عامل بنایا جس کو زکوۃ سے ہی معاوضہ دیا جاتا،اس مخزومی نے حضو ر انور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزادکردہ غلام جن کا نام اسلم ہے کنیت ابورافع سے کہاتم بھی میرے ساتھ چلو جو اجرت ملے گی اس میں تمہارا حصہ ہوگا جس سے تمہارا کچھ کام چل جائے گا،یہ مطلب نہیں ہے کہ میں خود اجرت لے کر اپنی طرف سے تم کو ہدیۃً دے دوں گا۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں مسئلہ پوچھنا مراد نہیں بلکہ ساتھ جانے کی اجازت حاصل کرنا مراد ہے ابو رافع اگرچہ جسمًا آزاد ہوچکے تھے مگر ان کا دل ہمیشہ کے لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوچکا تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پوچھے جنبش بھی نہیں کرتے۔
۳
؎یعنی اے ابو رافع تم ہو ہمارے غلام اور ہم ہیں بنی ہاشم سے،چونکہ بنی ہاشم زکوۃ کے عامل بن کر اس سے اجرت بھی نہیں لے سکتے لہذا تم بھی یہ اجرت نہیں لے سکتے۔اس حدیث سے دو مسئلے نہایت اہم حاصل ہوئے:ایک یہ کہ حضرات بنی ہاشم خصوصًا سیدوں کی شان اسلام میں بہت اعلیٰ ہے کہ غنی عامل زکوۃ سے اجرت لے سکتا ہے مگر یہ حضرات تو کیا ان کا زر خرید غلام یہ اجرت بھی نہیں لے سکتا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو آج کل سیدوں کو زکوۃ کھانا جائزکرنے کی دھن میں ہیں،سادات کو زکوۃ لینا ہرگز جائزنہیں۔ دوسرے یہ کہ شان والوں کی نسبت سے ادنی بھی شان والے بن جاتے ہیں،دیکھو سید کا غلام اگرچہ کسی قوم سے ہو زکوۃ نہیں لے سکتا بلکہ زکوۃ سے اجرت عمل بھی نہیں وصول کرسکتا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں نسبت کیا چیز ہے صرف اپنے عمل اچھے چاہئیں ۔تیسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم احکام قرآنیہ کو عام و خاص فرماسکتے ہیں،دیکھو رب تعالٰی نے مطلقًا فرمایا:"وَالْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا"مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت سے اپنی اولاد بلکہ ان کے غلاموں کو علیحدہ کردیا ورنہ قرآن کریم نے سید وغیر سید کا فرق مصرف زکوۃ کے بیان میں کوئی نہ کیا۔چوتھے یہ کہ سچے پیغمبروں نے نبوت کو ذریعۂ معاش قرار نہ دیا۔مرزا قادیانی اس نبوت کے ذریعہ خود مالا مال ہوگیا،بلکہ اپنی اولاد کو سکھا گیا کہ بہشتی مقبرہ کی قبریں بیچ کر مزے اڑایا کرونَعُوْذُبِاللهِ مِنْہُحضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاقیامت اپنی اولاد کو زکوۃ کی آمدنی سے محروم فرمایا انہیں حکم دیا کہ تم زکوۃ دو مگر غریب ہوکر لو نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1829